Skip to Content

Tuesday, October 17th, 2017

انٹرنیٹ سرمایہ کار اور سائنس انسان دوست شخصیت یوری ملنر اور طبیعیات دان اسٹیفن ہاکنگ نے انقلابی اسٹارشوٹ پروجیکٹ کا اعلان کردیا تاکہ ایک نسل میں ستاروں تک کا 100 ملین میل فی گھنٹہ مشن تیار کیا جا سکے

Closed

100 ملین ڈالرز کا تحقیقی و انجینئرنگ منصوبہ ننھے ‘نیوکرافٹ’ کو 20 فیصد روشنی کی رفتار کی رفتار سے چلانے کے لیے روشنی کی شعاع کے استعمال کے لیے تصور کا ثبوت چاہتا ہے۔ ایک ممکنہ مشن اپنے آغاز کے بعد لگ بھگ 20 سالوں میں الفا سینٹاری تک پہنچ سکتا ہے۔

مارک زکربرگ بورڈ میں شامل ہو رہے ہیں۔

نیو یارک، 12 اپریل 2016ء/پی آرنیوزوائر/– انٹرنیٹ سرمایہ کار اور سائنس انسان دوست یوری ملنر آج ون ورلڈ آبزرویٹری میں مادّی کائنات کے معروف عالم اسٹیفن ہاکنگ سے ملے تاکہ ایک نئے بریک تھرو انیشی ایٹو کا اعلان کریں جس کی توجہ خلائی تحقیق اور کائنات میں زندگی کی تلاش پر ہوگی۔

بریک تھرو اسٹار شوٹ 100 ملین ڈالرز کا ایک تحقیقی و انجینئرنگ پروگرام ہے جس کا مقصد روشنی سے چلنے والے نینوکرافٹس کے تصور کا عملی ثبوت دیکھنا ہے۔ یہ روشنی کی 20 فیصد رفتار کے ساتھ چل سکتے ہیں اور ہمارے قریبی ستاروں کے نظام میں ممکنہ سیاروں اور دیگر سائنسی معلومات کی تصاویر لے سکتے ہیں۔ الفا سینٹاری، اس کے آغاز کے بعد صرف 20 سال سے کچھ زیادہ کے فاصلے پر ہوگی۔

اس منصوبے کی قیادت ناساایمس ریسرچ سینٹر کے سابق ڈائریکٹر پیٹ وورڈنکریں گے اور معروف عالمی سائنس دانوں اور انجینئرز کی کمیٹی انہیں اس پر مشاورت دے گی۔ بورڈ اسٹیفن ہاکنگ، یوری ملنر اور مارک زکربرگ پر مشتمل ہوگا۔

اینڈرویان، فریمینڈائسن، مے جیمیسن، ایویلوئب اور پیٹ وورڈن نے بھی اس موقع پر شرکت کی۔

آج، یوری گیگارین کی پہلی خلائی پرواز کے 55 سال، اور ‘چاند کی طرف پرواز’ کو تقریباً نصف صدی مکمل ہونے پر بریک تھرو اسٹارشوٹ اگلی بڑی جست کی تیاریاں کر رہا ہے، اس مرتبہ ستاروں کی جانب۔

بریک تھرو اسٹارشوٹ

الفا سینٹاری ستاروں کا نظام 25 ٹریلین میل (4.37 نوری سالوں) کے فاصلے پر ہے۔ آج کے تیز ترین خلائی جہاز سے بھی وہاں تک پہنچنے میں 30,000 سال لگیں گے۔ بریک تھرو اسٹارشوٹ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ آیا ایک ننھا نینو کرافٹ، روشنی کی ایک لہر سے تحریک پانے والی سواری پر ہزاروں گنا تیزی سے اڑ سکتا ہے یا نہیں۔ یہ گویا خلائی سفر میں سلیکون ویلی کا انداز لانا ہے، جو 21 ویں صدی میں ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں آنے والی جدت کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔

1۔ نینوکرافٹس

نینوکرافٹسننھی خلا پیما ہیں جو دو مرکزی حصوں پر مشتمل ہیں:

  • اسٹارچپ: مور کے قانون نے مائیکروالیکٹرانک اجزا کے حجم میں ڈرامائی تبدیلی لانا مممکن بنایا۔ اس نے ایک گرام-اسکیل ویفر کا امکان پیدا کیا ہے جو کیمرے، فوٹون تھرسٹر، پاور سپلائی، آمدورفت اور رابطے کے آلے اور ایک مکمل طور پر کارآمد خلائی جہازوں کو لے جائے گا۔
  • لائٹ سیل: نینوٹیکنالوجی میں آنے والی جدت انتہائی پتلے اور کم وزن خاص مادہ تیار کررہی ہے، اور یوں میٹر-پیمائش کی سواریوں کی چند سو ایٹم موٹائی اور گرام-پیمائش کمیت کے ساتھ بناوٹ کو ممکن بنایا ہے۔

2۔ لائٹ بیمر

  • لیزرز کی بڑھتی ہوئی طاقت اور گھٹی ہوئی قیمت، مور کے قانون کے ساتھ یکسانیت، لائٹ بیمنگ ٹیکنالوجی نے زبردست ترقی کی جانب رہنمائی کی ہے۔ دریں اثنا لیزرز کی مرحلہ وار صف بندی (‘لائٹ بیمر’) ممکنہ طور پر 100 گیگاواٹ کی سطح تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

بریک تھرو اسٹارشوٹان پیمانوں کو ستاروں کے علوم کے پیمانے تک لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسٹارچپایک آئی فون کی قیمت پر بڑے پیمانے پر بنائی جا سکتی ہے اور کثرت اور کوریج فراہم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر مشن پر بھیجی جا سکتی ہیں۔ لائٹ بیمر ایک ماڈیولر ہے اور بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ ایک مرتبہ بننے کے بعد اور ٹیکنالوجی کے پختہ ہونے کے بعد اس کے لانچ کرنے کی لاگت چند لاکھ ڈالرزتک آ جانا متوقع ہے۔

راستہ ستاروں کا

توقع ہے کہ تحقیق اور انجینئرنگ کا مرحلہ چند سالوں میں مکمل ہوگا۔ اس کے بعد الفا سینٹاری کے لیے حتمی مشن کی تیاری کو اس وقت کے سب سے بڑے سائنسی تجربات کی سطح کے بجٹ کی ضرورت ہوگی، اور اس میں شامل ہوگا:

  • بلندیوں اور خشک مقامات پر زمینی کلومیٹر-پیمائش کے لائٹ بیمر کی تعمیر
  • ہر لانچ پر چند گیگاواٹ آورز توانائی بنانا اور محفوظ کرنا
  • بالائی مدار میں ہزاروں نینوکرافٹس کا حامل ‘مدرشپ’ بھیجنا
  • کرہ ہوائی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ایڈاپٹو آپٹکس ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھانا
  • روشنی کی لکیر کو لائٹ سیل پر مرتکز کرنا تاکہ انفرادی نینوکرافٹس کو منٹوں میں درکار رفتار تک پہنچایا جائے
  • ہدف کی جانب سفر کے دوران ستاروں کے درمیان کی یعنی انٹرسٹیلرگرد سے ٹکراؤ کا دھیان
  • کسی سیارے کی تصاویر لینا اور دیگر سائنسی مواد کو ننھے آن بورڈ لیزر کمیونی کیشنز سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے واپس زمین پر بھیجنا
  • نینو کرافٹس کو لانچ کرنے والے لائٹ بیمر ہی کے ذریعے ان سے 4 سال بعد تک ڈیٹا وصول کرنا

یہ اور دیگر سسٹم ضروریات اہم انجینئرنگ چیلنجز رکھتی ہیں اور ان پر مزید تفصیل کے ساتھ www.breakthroughinitiatives.org پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ البتہ مجوزہ سسٹم ڈیزائن کے کلیدی اجزا اسی ٹیکنالوجی پر منحصر ہیں جو یا تو اس وقت دستیاب ہے یا معقول اندازوں کے مطابق مستقبل قریب میں انہیں حاصل کرنا ممکن ہوگا۔

مجوزہ لائٹ پروپلژن سسٹم نے تجربات میں کسی بھی موجودہ نظام سے زیادہ کارکردگی دکھائی ہے۔ یہ منصوبہ فطری طور پر عالمی تعاون اور مدد کا مطالبہ کرتا ہے۔

آغاز کے لیے تمام مخصوص حکومتوں اور بین الاقوامی انجمنوں کی جانب سے اجازت درکار ہوگی۔

اضافی مواقع

ستاروں کے درمیان سفر کے لیے درکار ٹیکنالوجی کے پختہ ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد اضافی مواقع بھی ابھریں گے، جن میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

  • نظام شمسی کی کھوج میں حصہ
  • ستاروں کے مشاہدوں کے لیے کلومیٹر-پیمائش پر ٹیلی اسکام کا لائٹ بیمر کے طور پر استعمال
  • زمین کے پاس سے گزرنے والے سیارچوں کا بڑے فاصلوں پر سراغ

الفا سینٹاری نظام میں ممکنہ سیارے

ستاروں کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ الفا سینٹاری کے تین ستارہ نظام کے ‘رہنے کے قابل علاقوں’ میں زمین جیسے سیاروں کی موجودگی کے معقول امکانات ہیں۔ ایسے متعدد زمینی و خلائی سائنسی آلات تیار کیے اور بہتر بنائے جا رہے ہیں جو جلد ہی قریبی ستاروں کے گرد موجود سیاروں کو شناخت اور ان کی خصوصیات بیان کر سکیں گے۔

ایک علیحدہ بریک تھرو منصوبہ ان میں سے چند منصوبوں کو سہارا دے گا۔

کھلا اور مشترک ماحول

بریک تھرو اسٹارٹ شوٹ منصوبہ ہے:

  • مکمل طور پر ایسی تحقیق پر مبنی جو عوامی ملکیت میں ہے
  • نئے نتائج شائع کرنے سے وابستہ
  • مکمل شفافیت اور آزاد رسائی سے وقف
  • تمام متعلقہ شعبوں میں ماہرین اور ساتھ ساتھ عوام کے لیے بھی کھلا کہ وہ آن لائن فورم کے ذریعے اپنے خیالات کا حصہ ڈالیں

سائنسی حوالہ جات اور اشاعتوں کی فہرست، اور ساتھ ساتھ آن لائن فورم، www.breakthroughinitiatives.orgپر دیکھا جا سکتا ہے

تحقیقی سہارا

بریک تھرو اسٹارشوٹ منصوبہ ایک تحقیقی عطیات کا پروگرام بنائے گا، اور دیگر متعلقہ سائنسی اور انجینئرنگ تحقیق و پیشرفتوں کو سہارا دینے کے لیے دیگر سرمائے کو بھی سامنے لائے گا۔

بریک تھرو منصوبوں کے بانی یوری ملنر نے کہا کہ “انسان کی کہانی خود بڑی جستوں میں سے ایک ہے۔ 55 سال پہلے آج کے دن یوری گیگارین خلا میں پہنچنے والے پہلے انسان بنے۔ آج ہم اگلی عظیم جست کی تیاری کر رہے ہیں – ستاروں کی سمت۔”

اسٹیفن ہاکنگ نے تبصرہ کیا کہ “زمین ایک انوکھی جگہ ہے، لیکن ہو سکتا ہے یہ ہمیشہ نہ رہے۔ جلد یا بدیرہمیں ستاروں کی جانب دیکھنا ہی پڑے گا۔ بریک تھرو اسٹار شوٹ اس سفر کی جانب ایک بہت دلچسپ پہلا قدم ہے۔”

پیٹر وورڈن نے کہا کہ “ہم نے ووستک، وویجر، اپالو اور دیگر عظیم مشنز سے فیض حاصل کیا ہے۔ یہ ستاروں کے درمیان پرواز کا عہد شروع کرنے کا وقت ہے، لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں دھرتی پر اپنے قدم جمانے ہوں گے۔”

بریک تھرو اسٹارشوٹ بورڈ

اسٹیفن ہاکنگ، پروفیسر، ڈینس اسٹینٹن ایوری اور سیلی سوئی وونگ-ایوری ڈائریکٹر آف ریسرچ، یونیورسٹی آف کیمبرج

یوری ملنر، بانی ڈی ایس ٹی گلوبل

مارک زکربرگ، بانی اور سی ای او، فیس بک

بریک تھرو اسٹارشوٹ انتظامیہ اور مشاورتی کمیٹی

  • پیٹ وورڈن، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، بریک تھرو اسٹارشوٹ؛ سابق ڈائریکٹر ناسا ایمس ریسرچ سینٹر

بریک تھرو پرائز فاؤنڈیشن میں شامل ہونے سے پہلے ڈاکٹر وورڈن ناسا کے ایمس ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر تھے۔ وہ یونیورسٹی آف ایریزونا میں آسٹرونومیکے تحقیقی پروفیسر تھے۔ وہ خلا اور سائنس کے معاملات میں ایک تسلیم شدہ ماہر ہیں اور بین الاقوامی سطح پر حکومتوں اور نجی شعبوں کے درمیان وشراکت داریاں بنانے میں رہنما رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر وورڈن آسٹروفزکس اور خلائی علوم میں 150 سائنسی مقالے خود یا شریک حیثیت میں لکھ چکے ہیں۔ وہ تین ناسا خلائی سائنس مشنز میں سائنٹیفک کو-انوسٹی گیٹر کی خدمات انجام دے چکے ہیں – جن میں سب سے حالیہ انٹرفیس ریجن امیجنگ اسپیکٹوگراف ہے جو 2013ء میں سورج پر تحقیق کے لیے لانچ کیا گیا تھا۔ انہیں 1994ء میں چاند کے لیے کلیمنٹائن مشن پر ناساآؤٹاسٹینڈنگ لیڈرشپ میڈل دیا گیا۔ ڈاکٹر وورڈن کو 2009ء فیڈرل لیبارٹری کنسورشیئم ‘لیبارٹری ڈائریکٹر آف دی ایئر’ نامزد کیا گیا تھا اور وہ 2010ء آرتھر سی کلارک انوویٹرز ایوارڈ حاصل کرنے والے بھی رہے۔

  • ایوی لوئب، چیئرمین، بریک تھرو اسٹارشوٹ مشاورتی کمیٹی؛ ہارورڈ یونیورسٹی

ایوی لوئب ایک نظری طبیعیات دان ہیں جنہوں نے 500 سے زیادہ سائنسی مقالے اور آسٹروفزکس اور کوسمولوجی پر 3 کتابیں لکھ رکھی ہیں، جن میں سے بیشتر قریبی ستاروں اور بلیکہولز کے بارے میں ہیں۔ ٹائم میگزین نے انہیں خلائی معاملات میں 25 موثر ترین افراد میں سے ایک منتخب کیا۔ لوئب ہارورڈ یونیورسٹی میں فرینک بی بیئرڈ جونیئر پروفیسر برائے سائنس کی حیثیت سے خدمات دیتے ہیں، جہاں وہ ہارورڈ آسٹرونومی شعبے کے چیئر، انسٹیٹیوٹ فار تھیوری اینڈ کمپیوٹیشن کے ڈائریکٹر اور بلیک ہول انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات فراہم کرتے ہیں۔ وہ امریکن اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز، امریکن فزیکل سوسائٹی اور انٹرنیشنل اکیڈمی آف آسٹروناٹکس کے منتخب فیلو اور بورڈ آن فزکس اینڈ آسٹرونومی آف دی نیشنل اکیڈمیز کے رکن ہیں۔

  • جم بینفورڈ، مائیکروویو سائنسز

جم بینفورڈمائیکروویوسائنسز کے صدر ہیں۔ انہوں نے ہارڈویئر کے تصوراتی ڈیزائنوں کے لیے زبردست طاقت کے حامل مائیکروویو سسٹمز بنائے ہیں۔ ان کی دلچسپیوں میں مائیکروویوسورس فزکس، خلائی پروپلژنکے لیے برق مقناطیسی پاور بیمنگ، تجربہ جاتی انٹینسپارٹیکلبیمز اور پلازما فزکس شامل ہیں۔

  • بروسڈرین، پرنسٹن یونیورسٹی

ڈاکٹر ڈرین کی تحقیق ستاروں کے درمیانی ذرائع، خاص طور پر ستاروں کے درمیان گرد، فوٹوڈیسوسیایشنعلاقوں، شاک ویوز اور نینوسٹرکچرز کی طبعی مناظریاتپر مشتمل ہے۔ 2004ء میں انہوں نے ڈینی ہینیمان انعام برائے آسٹروفزکس جیتا۔ وہ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے رکن ہیں۔

  • این ڈرویان، کوسموس اسٹوڈیوز

این ڈرویان ایک امریکی مصنفہ اور پروڈیوسر ہیں جو سائنس کمیونی کیشن میں مہارت رکھتی ہیں۔ وہ ناسا کے وویجر انٹرسٹیلر میسیج کی کری ایٹو ڈائریکٹر اور 1980ء کی پی بی ایس دستاویزی فلم کوسموس کی شریک لکھاری تھیں، جس کی میزبانی کارل سیگن (1934ء تا 1996ء) کرتے تھے، جن سے انہوں نے 1981ء میں شادی بھی کی۔ وہ اس کے بعد آنے والی سیریز کوسموس: اے اسپیس ٹائم اوڈیسی کی ایگزیکٹو پروڈیوسر اور لکھاریبھی تھیں، جس پر انہوں نے ایمی اور پیباڈی ایوارڈز بھی جیتے۔

  • فریمین ڈائسن، پرنسٹن انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈی

فریمین ڈائسن ایک امریکی نظری طبیعیات دان اور ریاضی دان ہیں، جو کوانٹم الیکٹروڈائنامکس، سولڈسٹیٹ فزکس، آسٹرونومی اور نیوکلیئر انجینئرنگ میں اپنے کام کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ آپ انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈی میں اعزازی پروفیسر، رالسٹن کالج کے مہمان، بورڈ آف اسپانسرز آف دی بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس کے رکن ہیں۔

  • رابرٹ فوگیٹ، آرکٹیلم، ایل ایل سی، نیو میکسیکو ٹیک

ڈاکٹر فوگیٹایٹموسفیئرک پروپیگیشن فزکس اور ایٹموسفیئرک کمپنسیشن پر ایک تحقیقی پروگرام چلاتے ہیں جو لیزر گائیڈ اسٹار ایڈاپٹو آپٹکس استعمال کرتا ہے۔ ڈاکٹر فوگیٹ کے تحقیقی پروگرام میں سینسرز کی تیاری، انسٹرومنٹیشناور بڑے اپرچر کی حامل زمین پر نصب ٹیلی اسکوپس کا ماؤنٹ کنٹرول شامل ہیں۔

  • لو فریڈمین، پلانیٹری سوسائٹی، جے پی ایل

لو فریڈمین ایک امریکی آسٹروناٹکس انجینئر، خلائی ترجمان اور معروف مصنف ہیں۔ آپ کارل سیگن اور بروس سی مرے کے ساتھ پلانیٹری سوسائٹی کے شریک بانی تھے اور اب اعزازی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ آپ نے جے پی ایل میں اعلیٰمنصوبوں کی قیادت کی جن میں شمسی سفر، زہرہ، مشتری، عطارد، دم دار ستاروں اور سیارچوں کے لیے تیاری شامل رہی اور آپ وائی کنگ مشن کے بعد مریخ پروگرام کے رہنما بھی تھے۔ وہ اس وقت ناسا کے ایسٹرائیڈ ریڈائریکٹ مشن پر مشاورت دے رہے ہیں۔ آپ اس مشن کی تحقیق پر بھی شریک رہنما ہیں اور کیک انسٹیٹیوٹ فار اسپیس اسٹڈیز میں انٹرسٹیلر میڈیم کی تلاش میں بھی۔

  • گیانکارلو گینٹا، پولی ٹیکنک یونیورسٹی آف ٹیورن

گیانکارلو گینٹا کی پیشہ ورانہ دلچسپی کے شعبے ارتعاش، گاڑیوں کے ڈیزائن، مقناطیسی بیئرنگس اور روٹرڈائنامکس ہیں۔ انہوں نے پیشہ ورانہ اشاعتوں میں 50 سے زیادہ مقالے اور 21 کتابیں لکھی ہیں۔ سیٹی تحقیق کے شعبے میں انہیں بڑے پیمانے پر شائع کیا گیا ہے۔

  • اولیویئرگیون، یونیورسٹی آف ایریزونا

ڈاکٹر گویوننے خلائی اور زمین پر آسٹرونومیکلآلات ڈیزائن کیے ہیں جو نظام شمسی سے باہر سیاروں کی تلاش میں مدد دیتے ہیں۔ وہ براہ راست تصویر کشی کے لیے ہائی کنٹراسٹ امیجنگتکنیک (کوروناگرافی، ایکسٹریمایڈاپٹوآپٹکس) اور نظام شمسی سے باہر سیاروں پر تحقیق میں ماہر ہیں۔

  • مے جیمیسن، 100 ایئراسٹارشپ

ڈاکٹر مے سی جیمیسن 100 ایئراسٹارشپ کی قیادت کرتی ہیں، جو ایک کثیر پہلو عالمی منصوبہ ہے جو نظام شمسی سے باہر اگلے 100 سالوں میں کسی دوسرے ستارے کی جانب انسانوں کے سفر کے لیے درکار ضروریات کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے کام کرتا ہے۔ جیمیسنچھ سال تک ناساکی خلا باز تھیں اور دنیا کی پہلی غیر سفید فام خاتون تھیں جو خلا میں گئیں۔ وہ زمین پر زندگی کو بہتر بنانے کے لیے خلائی تحقیق کو بہتر بنانے سے وابستہ ہیں، اور ایک معالج، انجینئر، موجد، ماحولیاتی تحقیق کی پروفیسر، سائنس کی خواندگی کی وکیل، افریقہ میں ترقیاتی کارکن اور دو ٹیکنالوجی کے ابتدائی اداروں کی بانی کی حیثیت سے اپنے پس منظر کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔

  • پیٹ کلوپر، ڈائریکٹر آف انجینئرنگ، بریک تھرو اسٹارشوٹ، سابق ڈائریکٹر آف انجینئرنگ، ناساایمس ریسرچ سینٹر

پیٹرکلوپرخلائی نظاموں پر زور کے ساتھ کم خرچ اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کوششوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے 50 سے زیادہ خلائی مشن تیار اور لانچ کیے ہیں۔ انہوں نے صنعت میں وقت گزارا ہے اور 4 ملازمین کے حامل ایک اسپیس کرافٹ اسٹارٹ اپ کو 500 سے زیادہ تک پہنچانے میں مدد دی ہے۔ وہ بوئنگ اور اسپیس سسٹمز لوریل جیسے بڑے اداروں میں بھی کام کر چکے ہیں۔ وہ حکومتی خلائی و ہوا بازی پروگراموں میں شامل رہے ہیں اور حال ہی میں ناساایمس میں ڈائریکٹر آف انجینئرنگ تھے۔ وہ اعلیٰ ٹیکنالوجی مشنز کے اخراجات کو کم کرنے، تیز تر بہتر اور سستی تر اور کام کے لحاظ سے مثالی خلائی کوششوں میں حصہ لے چکے ہیں۔

  • جیوفلینڈل، ایس اے گلین ریسرچ سینٹر

جیوفلینڈس ایک امریکی سائنس دان ہیں جو سیاروں کی تلاش، ستاروں کے درمیان سفر اور خلائی مشنوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔ لینڈس نو پیٹنٹس رکھتے ہیں، بنیادی طور پر شمسی سفر اور فوٹووولٹیک آلات کے شعبے میں، اور ستاروں کے درمیان سفر اور چاند، مریخ اور زہرہ پر اڈے بنانے پر پریزنٹیشن اور رواں تبصرے دے چکے ہیں۔ وہ ناسا انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانسڈکونسیپٹس کے فیلو ہیں۔

  • کیلون لونگ، جرنل آف دی برٹش انٹرپلانیٹری سوسائٹی

کیون لونگ ایک طبیعیات دان، انیشی ایٹو فارانٹرسٹیلراسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ وہ لگ بھگ پندرہ سال فضائیات کے شعبے میں کام کر چکے ہیں اور انٹرسٹیلرپرواز کے موضوع پر مہارت رکھتے ہیں، جس میں ان کا زور پروپلژن کے جدید خیالات پر ہے۔

  • فلپلیوبن، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سانتا باربرا

فلپلیوبنیو سی سانتا باربرا میں طبیعیات کے پروفیسر ہیں، تجرباتی علم کائنات، کائناتی پس منظر کی تابکاری (اسپیکٹرم، اینیسوٹروپی اور تقطیب)، سیٹیلائٹ، غباروں اور زمین سے ابتدائی کائنات کی تحقیق، انکشاف کی بنیادی محدودیت، ہدایتی توانائی نظام اور انفراریڈ اور فار-انفراریڈآسٹروفزکسمیں تحقیقات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

  • زیکمانچسٹر، ہارورڈ یونیورسٹی

زیکمانچسٹر ایک محقق اور ایروسپیسانجینئر ہیں جن کی حرکیات اور کنٹرول میں بڑی دلچسپیاں ہیں اور خلائی سفر کو زیادہ قابل رسائی بنانے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ وہ ایمبیڈڈالیکٹرانکس اور کمپیوٹیشن کی جدت کا فائدہ اٹھانے میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ خلائی جہاز کو زیادہ چھوٹا، زیادہ بہتر اور تیز تر بنایا جا سکے۔انہوں نے 2011ء میں کک سیٹ منصوبے کی بنیاد رکھی اور مختلف بے آدمی فضائی گاڑیاں اور چند چھوٹے خلائی جہاز کے مشنز پر بھی کام کر چکے ہیں۔

  • گریگمیٹلوٹ، نیویارک سٹی کالج آف ٹیکنالوجی

گریگمیٹلوفاینوائی سی کالج آف ٹیکنالوجی میں ایک اعزازی پروفیسر ہیں۔ وہ عمیق خلا میں پروپلژن کے ماہر ہیں۔ میٹلوف برٹش انٹرپلانیٹری سوسائٹی کے رکن، امریکن میوزیم آف نیچرلہسٹری کے ہیڈنایسوسی ایٹ اور انٹرنیشنل اکیڈمی آف ایروناٹکس کے کورسپینڈنگ ممبر ہیں۔ شمسی-سیل ٹیکنالوجی میں ان کی پیش قدم تحقیق کو ناسا نے ماورائے شمسی کھوج میں استعمال کیا اور ساتھ ساتھزمین کو خطرے سے دوچار کرنے والے سیارچوں کا رخ پھیرنے کے لیے بھی ٹیکنالوجیز پر غور کررہا ہے۔ وہ یونیورسٹی آف سینا، اٹلی میں بھی مہمان پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔

  • کلیئرمیکس، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سانتا کروز

یو سی سانتا کروز میں آسٹرونومی اور آسٹروفزکس کی پروفیسر اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا آبزرویٹریز کی ڈائریکٹر۔ میکسلیزر گائیڈ اسٹار ایڈاپٹوآپٹکس میں اپنے حصے کی وجہ سے جانی جاتی ہے جو ایسا طریقہ ہے جو مضطرب فضا کے ذریعے تصاویر کی بصری مسخ شدگی کو کم کرتا ہے۔ یہ کام جیسن گروپ میں شروع ہوا جہاں انہوں نے 1983ء میں پہلی خاتون رکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی۔ جیسن میں اپنی ساتھیوں کے ساتھ انہوں نے مصنوعی لیزر گائیڈ ستارہ استعمال کرنے کا خیال پیش کیا جسے سوڈیم کے ایٹموں سے نکلنے والی پیلی روشنی سے ہم آہنگ کیا گیا تاکہ آسٹرونومیکل تصاویر کو درست کیا جائے۔ سینٹر فارایڈاپٹوآپٹکس میں اس ٹیکنالوجی کو بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ اب دنیا کی سب سے بڑی آپٹیکل ٹیلی اسکوپس میں ایڈاپٹوآپٹکس استعمال کرتی ہیں تاکہ باہم ٹکرانے والی گیسوں سے لبریز کہکشاؤں کے مرکز میں عظیم بلیکہولز کے خاتمے پر تحقیق کرسکیں۔ وہ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز اور امریکن اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز کی رکن ہیں اور انسٹرومیشن میں امریکن آسٹرونومیکل سوسائٹی کا ویبر پرائز، پرنسٹن یونیورسٹی کا جیمز میڈیسن میڈل اور ڈپارٹمنٹ آف انرجی کا ایاولارنس ایوارڈ جیت چکی ہیں۔

  • کایا نوبویوکی، کوبے یونیورسٹی

کایا نوبویوکیجاپان کی کوبے یونیورسٹی میں گریجویٹ اسکول آف انجینئرنگ کے نائب ڈین ہیں۔ نوبویوکیمتعدد خلائی و زمینی مظاہرے کر چکےہیں۔ وہ اور جاپان اور یورپین اسپیس ایجنسی میں ان کی بین الاقوامی ٹیم ایک ایس پی ایس کے لیے مائیکروویوبیم کنٹرول کا کامیابی سے تجربہ کرچکی ہیں جس میں ایک آئی ایس اے ایسساؤنڈنگ راکٹ اور تین ذیلی سیٹیلائٹس کا استعمال کیا گیا جنہوں نے ایک بڑا جال باندھا: اسے “فوروشیکی” تجربہ کہتے ہیں۔ انہوں نے اوربٹل پاور پلانٹ کے حصے کے طور پر کلیدی شمسی طاقت سے چلنے والی وائرلیس نشریات کے تجربے میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔

  • کیونپارکن، پارکن ریسرچ

کیونپارکن ایک برطانوی نژاد سائنس دان ہیں جو مائیکروویو تھرمل راکٹ کی ایجاد کے لیے مشہور ہیں۔ 2005ء میں انہیں رشین فیڈریشن آف آسٹروناٹکس اینڈ کاسموناٹکس کی جانب سے کورولیف میڈل سے نوازا گیا تھا۔ 2007ء میں ڈاکٹر پارکن نے ناساایمسمیں مشن ڈیزائن سینٹر قائم کیا اور اپنا سافٹویئر ڈھانچہ بنایا، اس سے قبل آئس میکرسافٹویئر تخلیق کر چکے تھے جو ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری میں ٹیم-ایکس اور دیگر اداروں کی جانب سے تیار کردہ خلائی جہاز میں استعمال کیا گیا۔ 2012ء سے 2014ء تک وہ اس منصوبے کے پرنسپل انوسٹیگیٹر اور چیف انجینئرتھے جس نے پہلا ملی میٹر-ویو سے طاقت حاصل کرنے والا تھرمل راکٹ بنایا اور اسے لانچ کیا۔

  • میسن پیک، کورنیل یونیورسٹی

پیک کی تعلیمی تحقیق کم خرچ خلائی مشنز کے لیے ٹیکنالوجی تیاری پر توجہ رکھتی ہے، خاص طور پر پروپلژن، نیویگیشن اور کنٹرول کے شعبوں میں۔ وہ سابق ناسا چیف ٹیکنالوجسٹ ہیں۔ وہ 20 سے زیادہ سالوں تک امریکی ایروسپیس صنعت میں کام کرچکے ہیں، بوئنگ اور ہنیویل میں انجینئرنگ عہدے رکھ چکے ہیں اور اسپیس ٹیکنالوجی میں مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ننھے خلائی جہاز، جدید پروپلژن، کم طاقت کے خلائی روبوٹکس اور خلائی پرواز کی حرکیات پر پیک کے مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ وہ سیاروں کی کھوج اور خلائی جہاز کے میکانزم پر تین کتابوں کے شریک لکھاری بھی ہیں۔

  • سال پرلمٹر، نوبل انعام یافتہ، بریک تھرو انعام فاتح، یو سی برکلے اور لارنسبرکلے نیشنل لیبارٹری

سال پرلمٹرلارنسبرکلے نیشنل لیبارٹری میں ایک امریکی آسٹروفزسٹ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں طبیعیات کے پروفیسر ہیں۔ وہ امریکن اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز کے رکن، امریکن ایسوسیایشنفارایڈوانسمنٹ آف سائنس کے فیلو اور نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے رکن ہیں۔ پرلمٹر نے آسٹرونومی میں 2006 شاء پرائز، طبیعیات میں 2011ءنوبیل انعام اور بنیادی طبیعیات میں 2015ء بریک تھرو انعام برائن پی شمٹ اور ایڈم ریس کے ساتھ جیتا، جو کائنات کے پھیلاؤ میں تیزی آنے کا ثبوت پیش کرنے پر دیا گیا۔

  • مارٹن ریس، آسٹرونومر رائل

لارڈ مارن ریس ایک برطانوی کوسمولوجسٹ اور آسٹروفزسٹہیں۔ وہ 1995ء سے آسٹرونومر رائل ہیں اور 2004ء سے 2012ء تک ٹرینٹی کالج، کیمبرج کے ماسٹر اور 2005ء سے 2010ء کے درمیان رائل سوسائٹی کے صدر تھے۔ اپنی سائنسی دلچسپیوں کو بڑھانے کے علاوہ ریس نے 21 ویں صدی کے مسائل اور چیلنجز کے بارے میں، اورسائنس، اخلاقیات اور سیاست کے درمیان سطحوں کے بارے میں بڑے پیمانے پر لکھا اور بات کی ہے۔ وہ پرنسٹن میں انسٹیٹیوٹ فارایڈوانسڈ اسٹڈی کے بورڈ، آئی پی پی آر، آکسفرڈ مارٹن اسکول اور گیٹس کیمبرج ٹرسٹ کے رکن ہیں۔ انہوں نے سینٹر فار دی اسٹڈی آف ایکسسٹینشل رسک کی بنیاد رکھی اور فیوچر آف لائف انسٹیٹیوٹ کے لیے سائنٹیفک ایڈوائزری بورڈ میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ لارڈ ریس گیما-رےبرسٹس پر کام کر چکے ہیں اور اس پر کہ پہلے ستارے کی تشکیل کے ساتھ “کائناتی تاریک عہد”کیسے ختم ہوا۔ لارڈ ریس علم ہیئت اور سائنس پر کتابوں کے مصنف ہیں جن کا ہدف عوام ہیں اور کئی عوامی دروس اور نشریات دے چکے ہیں۔

  • رولڈسگدیو، یونیورسٹی آف میری لینڈ

رولڈسگدیویونیورسٹی آف میری لینڈ کے نامور اعزازی پروفیسر ہیں۔ انہوں نے 1966ء میں ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی سے پی ایچڈی سند حاصل کی۔ وہ پہلے روس کے خلائی تحقیقی پروگرام کے ماسکو میں قائم مرکز اسپیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر کے طور پر 15 سال خدمات انجام دے چکے تھے،جہاں اس وقت وہ اعزازی ڈائریکٹر کا عہدہ رکھتے ہیں۔ سوویت خلائی تحقیقی پروگرام کے لیے کام سے قبل وہ نیوکلیئر سائنس میں نمایاں کیریئر رکھتے تھے اور گرم پلازما اور کنٹرولڈتھرمونیوکلیئرفیوژن کے رویے پر اپنے کام کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت حاصل کر چکے تھے۔ وہ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز، رائل سوئیڈش اکیڈمی، میکسپلانک سوسائٹی اور انٹرنیشنل اکیڈمی آف ایروناٹکس کے رکن ہیں۔

  • ایڈ ٹرنر، پرنسٹن یونیورسٹی، این اے او جے

ایڈ ٹرنر پرنسٹن یونیورسٹی میں آسٹروفزکس کے پروفیسر ہیں۔ ٹرنر نظری اور مشاہداتیآسٹروفزکسدونوں میں بڑے پیمانے پر کام کر چکے ہیں اور دوہریکہکشاؤں، کہکشاؤں کے گروہوں، بڑی بناوٹ، سیاہ مادے، دور دراز آبادیوں، کشش ثقل عدسہ گیری، کوسموس ایکس-رے پس منظر، کوسمولوجیکل استقلال، نظام شمسی سے باہر سیاروں اور آسٹروبایولوجیپر 200 سے زیادہ تحقیقی مقالے شائع کر چکے ہیں –بارہا، ان تمام شعبوں میں، جس میں شماریاتی تجزیے پر زور رہتا ہے۔ پرنسٹنان کی حالیہ تدریسی سرگرمیوں میں کوسمولوجی، آسٹروبایولوجی اور ذرائع ابلاغ کی کوریج میں سائنس شامل ہیں، اور وہ 1992ء سے یونیورسٹی کی کمیٹی برائےشماریاتی تعلیم کے رکن ہیں۔

اضافی معلومات www.breakthroughinitiatives.org

آج کی پریس کانفرنس کی تصاویر، وڈیو اور موادمندرجہ ذیل ربط پر ڈاؤنلوڈ کے لیے دستیاب ہے۔ مواد دن بھر اپلوڈ کیا جاتا رہے گا۔

لنک: www.image.net/breakthroughstarshot

Previous
Next