Skip to Content

Monday, August 21st, 2017

ڈاکٹر رونگ سیانگ سو کی جانب سے نوبل پرائز اسمبلی کے خلاف دائر کردہ مقدمہ میں نئی پیش رفت کا اعلان

Be First!

لاس اینجلس، 11 مارچ 2013ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکیستان–

کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ میں نوبل اسمبلی ، نوبل اسمبلی نے 22 فروری 2013ء کو ڈاکٹر رونگ سیانگ سو کے ہتک عزت کے مقدمے کا جواب دیتے ہوئے مقدمے کی لاس اینجلس میں ریاستی عدالت سے وفاقی عدالت منتقلی کا نوٹس جاری کیا ہے۔

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20130305/LA71370)

ڈاکٹر سو کے وکلاء کے مطابق مقدمے کی وفاقی عدالت کو منتقلی اس کی پختہ حیثیت کو متاثر نہیں کرے گی بلکہ یہ صرف مدعا علیہان کی جانب سے ضابطے کی حرکت ہے۔ جناب سو کا مقدمہ دسمبر 2012ء میں دائر کیا گیا تھا جو عضویات یا طب کے شعبے میں نوبل اسمبلی کے 2012ء نوبل انعام کے حوالے سے تھا۔

ڈاکٹر سو کے مطابق مقدمے کا مقصد نوبل اسمبلی کی ساکھ کو خراب کرنا نہیں تھا، بلکہ “انسانی جسمانی خلیات کی اسٹیم خلیات میں تبدیلی اور عضویاتی بافتوں کی دوبارہ تخلیق” کے حوالے سے ایک اہم غلط فہمی کی وضاحت کرنا تھا۔ “گزشتہ چند دہائیوں میں انسانی تجدیدی سائنس کے حوالے سے اپنی تحقیق کے ذریعے ڈاکٹر سو دریافت اور ثابت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ تبدیلی ہمارے خلیوں میں پائی جانے والی فطری صلاحیت ہے، ایک قدرتی مظہر جس کے بارے میں وہ کہتےہیں کہ انہوں نے وقتاً فوقتاً کامیاب طبی ایپلی کیشنز کے ذریعے اس کا مظاہرہ کیا۔ ان کے دعووں کے مطابق خلیہ جات کی تبدیلی انسان کے بنائے ہوئے خلیوں کی انجینئرنگ کے لیے ضروری نہیں ہوتی، جو وہی طریقہ ہے جو 2012ء نوبل انعام یافتگان کی جانب سے اختیار کیا گیا۔

اپنی شکایت میں ڈاکٹر سو اپنی طبی ایپلی کیشنز کے نتائج کی مثالیں پیش کرتے ہیں؛ جس میں مختلف پیٹنٹس اور پبلی کیشنز شامل ہیں جو “انسانی جسمانی خلیات کی برمحل اسٹیم خلیات میں منتقلی اور بعد ازاں عضویاتی بافتوں میں درست حالت میں تجدید” کی تفصیلات ظاہر کرتیں اور تصدیق کرتی ہیں۔ ان ایپلی کیشنز میں شامل ہیں:

  • سخت جلن کے بعد بروقت جلد کی تجدید
  • کٹی ہوئی انگلیوں کی تجدیدی بحالی
  • جلدی داغوں کا تجدیدی خاتمہ
  • انحطاطی کمزور معدے و آنتوں کی روؤں کی فوری بحالی تاکہ وہ نوجوانی والی عام حالت پر واپس آ جائیں

ان نتائج کی بنیاد پر ڈاکٹر سو زور دیتے ہیں کہ “انسانی جسمانی خلیات کی اسٹیم خلیات میں منتقلی اور عضویاتی بافتوں کی دوبارہ تخلیق”فطری انسانی صلاحیت ہے، وہ نہیں جو انسان کے بنائے گئے خلیات کے ذریعے تخلیق کی جائے۔ لیکن موخر الذکر طریقے پر دو سائنسدانوں کو نوبل اسمبلی کی جانب سے اعزاز سے نوازا گیا، مصنوعی طور پر عضویاتی خلیات کو جوہری منتقلی اور خلیاتی ری پروگرامنگ کے ذریعے خود-بیانیہ “پلیوری پوٹنسی” کی حالت میں تبدیل کرنے پر۔ ڈاکٹر سو مانتے ہیں کہ نوبل اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اعزاز حاصل کرنے والے کے کاموں کو درست انداز میں بیان کرے اور ڈاکٹر سو کی دریافت کو تسلیم کرے جس کا مظاہرہ انہوں نے کئی سال قبل کیا اور ثابت کیا۔ ڈاکٹر سو مانتے ہیں کہ نوبل اسمبلی کی جانب سے انعام یافتگان کے کام کی بیان کردہ تفصیل گمراہ کن ہے اور وہ ان کی سائنسی کامیابی اور پیشہ ورانہ ساکھ کی تحقیر اور بیخ کنی کرتی ہے، جو اس عرضداشت کو دائر کرنے کا سبب بنی۔

ڈاکٹر سو کا سختی سے یقین ہے کہ عوام کو “انسانی عضویاتی خلیات کی اسٹیم خلیات میں منتقلی اور عضویاتی بافتوں کی دوبارہ تخلیق” کی ایک فطری انسانی صلاحیت کے مقابلے میں مصنوعی اور انسان کی جانب سے بنائے گئے خلیات سے پیدا کردہ صلاحیت کے درمیان اہم فرق کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے۔ یہ مقدمہ صرف اپنی سائنس کو محفوظ بنانے کے لیے اٹھایا گیا قدم نہیں، بلکہ ایسا قدم بھی ہے جس کے بارے میں انہیں امید ہےکہ وہ حیاتی سائنس کے بارے میں معلومات کی درستگی کے ذریعے لوگوں کے شعور میں اضافہ کرے گا۔ بہرحال عضویات یا طب میں نوبل انعام حیاتی سائنس پر تحقیق پر اکثریت کی نمائندگی کرتا ہے اور انسانی زندگیوں کی حفاظت پر براہ راست اثرات ڈالتا ہے،جو سب سے اہم ہے۔

رونگ سیانگ سو کے بارے میں

ڈاکٹر سو انسانی جسم کی تجدیدی بحالی کی سائنس کے بانی ہیں۔ انہوں نے دسمبر 2012ء میں عضویات یا طب میں نوبل انعام دینے والے ادارے کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ میں نوبل اسمبلی کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا۔ یہ مقدمہ ریاست کیلی فورنیا کی عدالت عالیہ، اورنج کاؤنٹی سینٹرل جسٹس سینٹر ، میں دائر کیا گیا تھا اور ہتک عزت اور نامناسب مقابلے کا حوالہ دیتا ہے۔ 8 اکتوبر 2012ء کو عضویات یا طب میں نوبل انعام 2012ء مشترکہ طور پر سر جان بھی گرڈن اور شنیا یاماناکا کو “پختہ خلیات کو پلیوری پوٹنٹ بنانے کے لیے ری پروگرام کرنے کی دریافت ” پر دیا گیا۔ ڈاکٹر سو الزام لگاتے ہیں کہ نوبل اسمبلی کی جانب سے دیے گئے چند بیانات غلط ہیں کیونکہ وہ ایسے سائنسدان ہیں جنہوں نے ایک دہائی قبل یہ دریافت کی تھی۔

http://www.mebo-international.com/about-us/timeline

ذیل میں آپ تجدیدی بحالی سائنس کی ایک مثال ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ اضافی معلومات کے لیے رابطہ کیجیے:

جین ویسٹ گیٹ: +1-336-209-9276، Jane@westgatecom.com، یا

چیرل ریلے، +1-703-683-1798، cherylrileypr@comcast.net۔

Previous
Next

Leave a Reply