Skip to Content

Tuesday, August 22nd, 2017

نوبل اسمبلی کی ڈاکٹر رونگ سیانگ سو کے مقدمے کی اہمیت گھٹانے کی کوشش

Be First!

لاس اینجلس، 26 مارچ 2013ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان–

14 مارچ 2013ء کو سائنٹسٹ میگزین نے نوبل اسمبلی کے ترجمان کے ان تبصرہ جات کا حوالہ دیا، جن کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر رونگ سیانگ سو کے ان کے خلاف دائرے مقدمے کی کوئی “وقعت” نہیں۔ مقدمے میں ڈاکٹر سو نوبل اسمبلی پر زور دے رہے ہیں کہ وہ واضح کرے کہ انسانی ری جنریٹو صلاحیت فطری ہے یا نہیں یا اسے لازماً مصنوعی طور پر تیار کرنا ہوگا، جیسا کہ علم اجسام و ادویات کے 2012ء نوبل انعام کے اعلان کے موقع پر کہا گیا۔ ڈاکٹر سو نے دسمبر 2012ء میں نوبل اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20130326/LA83057)

ڈاکٹر سو کے ترجمان کے مطابق اسمبلی کی جانب سے مقدمے کو حقیر سمجھنے پر اصرار حیرت انگیز تھا۔ مقدمہ نوبل اسمبلی کے خلاف درج کیا گیا تھا کہ وہ اہم سائنسی تفصیلات کی وضاحت کرے جو ڈاکٹر سو سمجھتے ہیں کہ اکتوبر 2012ء کے نوبل انعام اعلان کے دوران غلط بیان کی گئیں۔ ڈاکٹر سو کے مقدمہ دائر کرنے کا مقصد خود نوبل انعام حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ نوبل اسمبلی کے بیانات میں موجود غلطیوں کی درستگی تھا۔ یہ غلطیاں نہ صرف ڈاکٹر سو کی سائنسی خدمات کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں، بلکہ ان کی رائے کو بھی، جس میں دنیا بھر میں انسانوں کی صحت اور حفاظت شامل ہے۔ اس لیے اس مقدمے کی حیثیت حقیر ہونے کے علاوہ سب کچھ تھی۔

مقدمہ دائر کرنے کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ نوبل اسمبلی کسی فرد واحد کی جانب سے بغیر قانونی نظام کا سہارا لیے غلط بیانات کی درستگی کروانے کے لحاظ سے نوبل اسمبلی بہت طاقتور ادارہ ہے۔ اس سے ملتے جلتے گزشتہ معاملات میں ڈاکٹر سو نے مشاہدہ کیا کہ کئی سائنسدانوں نے نوبل اسمبلی کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، اس لیے قانونی کارروائی ضروری تھی۔

ڈاکٹر سو کی اپلائیڈ ری جنریٹو ری اسٹوریشن سائنس نے بارہا ثابت کیا کہ انسانی ری جنریٹو صلاحیت فطری ہے۔ اس سچ کی حمایت میں ڈاکٹر سو کی حالیہ نیوز ریلیز نے کٹی ہوئی انگلیوں کی برمحل ری جنریٹو بحالی کے گرافک نتائج ظاہر کیے۔ ریلیز میں دکھائی جانے والی تصویر انسانی جسم کی فطری ری جنریٹو صلاحیت کے ذریعے زخم کے نشان کے خاتمے کو ظاہر کیا گیا، جو مصنوعی کے مقابلے میں قدرتی طریقے کی مزید توثیق تھی۔

البتہ نوبل اسمبلی نے ان سائنسدانوں کو انعام سے نوازا جنہوں نے اس ری جنریٹو صلاحیت کو مصنوعی طریقے سے تخلیق کرنے کی کوشش کی، جو ڈاکٹر سو کے یقین کے مطابق نہ صرف ایک انتہائی بدتر طریقہ ہے، بلکہ ممکنہ طور پر بہت خطرناک بھی ہے۔ اگر ڈاکٹر سو درست ہیں تو نوبل اسمبلی کا اعلان اور حالیہ ایوارڈ حیاتی سائنس تحقیق پر ہونے والی پیشرفت میں رکاوٹ بنے گا۔

کیلی فورنیا (کیس نمبر 30-2012-0061) میں مدعی ڈاکٹر سو کی نمائندگی آرڈینٹ لا گروپ نے کی ہے۔

رابطہ:

جین ویسٹ گیٹ

+1.336.209.9276

jane@westgatecom.com

چیرل ریلے

+1.703.683.1798

cheryl@westgatecom.com

Previous
Next

Leave a Reply