Skip to Content

Thursday, September 21st, 2017

اپنے کاروبار کی ازسرنو سمت بندی کریں یا انٹرنیٹ کے اس عہد میں ناکام ہوجائیں، ہائیر سی ای او کا کارپوریٹ رہنماؤں سے خطاب

Be First!

کاروباروں کو کارپوریٹ ڈھانچے اور اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کے حوالے سے بنیادی چیزوں پر ازسرنو سوچنا ہوگا، اکیڈمی آف مینجمنٹ کے سالانہ اجلاس سے چانگ روئی من کا خطاب

بیجنگ، 13 اگست 2013ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان–

کاروباری اداروں کو مسابقتی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے کارپوریٹ ڈھانچے اور کلیدی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعلقات پر لازماً ازسرنو سوچنا ہوگا، یہ بات چیئرمین اور سی ای او ہائیر چانگ روئی من نے آج معروف انتظامی ماہرین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ دنیا بھر میں مینجمنٹ ماہرین کی سب سے بڑی مجلس اکیڈمی آف مینجمنٹ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چانگ نے کہا کہ کامیابی اداروں کو جدت طراز رہنے کے لیے لازماً زیادہ سخت محنت کرنا ہوگی اور اس کاروباری چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہائیر کے طریقے کا خاکہ پیش کیا۔

ہائیر سی ای او چانگ روئی من نے کہا کہ “کوئی بھی ادارہ اس لیے کامیاب نہیں ہوتا کہ وہ بنیادی طور پر اپنے حریف اداروں سے بہتر ہوتا ہے – بلکہ حقیقی کاروباری رہنما اس لیے کامیاب ہوتے ہیں کیونکہ وہ تبدیل ہوتے ہوئے مارکیٹ رحجانات کو فوری طور پر قبول کرتے ہیں اور بڑے ہونے کے باوجود خود کو چست اور غیر روایتی رکھنے کے لیے خود کو جان بوجھ کر تیار کرتے ہیں۔ ہائیر ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے عالمی رہنما ہے۔ لیکن اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ہم انٹرنیٹ عہد میں بھی برتری برقرار رکھیں، گزشتہ دو سالوں میں ہم نے اپنے کارپوریٹ ڈھانچے اور کلچر کی ازسرنو شناخت کے لیے بنیادی کام مکمل کیاہے۔ ہم نے اپنے طریقے کو متعین کیا ہے جسے ہم نے ‘تین انکار’ کا نام دیا ہے – ادارے کے مختلف شعبہ جات کو جدا کرنے کے لیے اندرونی سرحدوں سے انکار، انتظامی نظام مراتب سے انکار، اور ہماری رسدی زنجیر کی آگے بڑھنے کی صلاحیت پر حدوں سے انکار۔”

اورلینڈو، فلوریڈا میں رواں ہفتے ہونے والا اکیڈمی آف مینجمنٹ کا سالانہ اجلاس 83 ممالک کے 10 ہزار سے زائد انتظامی ماہرین اور کاروباری رہنماؤں کو یکجا کرتا ہے کہ وہ انتظامی شعبوں میں عالمی رحجانات پر گفتگو کریں۔ چانگ نے تبصرہ کیا کہ “کوئی ادارہ کامیاب نہیں ہوتا، لیکن وہ جو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ہو۔”

ہائیر کے بارے میں

ہائیر گھریلو مصنوعات فراہم کرنے والا معروف عالمی ادارہ ہے، جس کی 2012ء عالمی آمدنی 25.8 ارب اور منافع 1.42 ارب امریکی ڈالرز  رہا۔ اپنے بے مثال نیٹ ورک بنیاد پر انتظامی ڈھانچے اور صنعت کی معروف مکمل عالمی آر اینڈ ڈی ٹیم کی وجہ سے مشہور ہائیر کا ہدف جدید گھریلو مصنوعات بنانا ہے جو دنیا بھر کے 160 ممالک میں صارفین کی تیزی سے تبدیل ہوتی ضروریات کو پورا کریں۔ صارفین کی مارکیٹوں کے لیے حکمت عملی تحقیق کرنے والا معروف ادارے یورومانیٹر انٹرنیشنل ہائیو کو گھریلو مصنوعات کے برانڈ میں گزشتہ چار سالوں سے نمبر ایک ادارہ قرار دے رہا ہے۔ 2012ء میں بوسٹن کنسلٹنگ گروپ نے ہائیر کو دنیا کے دس سب سے زیادہ جدت طراز اداروں میں سے ایک قرار دیا۔

ذریعہ: ہائیر

Previous
Next

Leave a Reply