Skip to Content

Wednesday, October 18th, 2017

وائٹ سینڈز میزائل رینج میں میڈز کی دو اہداف کو نشانہ بنانے میں غیر معمولی کامیابی

Be First!

اورلینڈو، فلوریڈا اور میونخ اور روم، 6 نومبر 2013ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان–

میڈیم ایکسٹینڈڈ ایئر ڈیفنس سسٹم (MEADS) نے وائٹ سینڈز میزائل رینج، نیو میکسیکو میں اپنے 360 درجے کے ایئر اینڈ میزائل ڈیفنس(اے ایم ڈی) کی صلاحیتوں کے اظہار کے دوران مخالف سمت سے حملہ آور دو اہداف کو راہ میں روکتے ہوئے تباہ کردیا۔

MEADS%20Infographic. وائٹ سینڈز میزائل رینج میں میڈز کی دو اہداف کو نشانہ بنانے میں غیر معمولی کامیابی

MEADS Infographic.

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20131106/DA11919-INFO)

اس موقع پر میڈز نظام کے تمام عناصر کو پرکھا گیا، جن میں 360 درجہ میڈز سرویلنس ریڈار، نیٹ ورکڈ میڈز بیٹل مینیجر، پی اے سی-3 میزائل سیگمنٹ ان ہینسمنٹ (ایم ایس ای) فائر کرنے والے دو کم وزن کے لانچرز، میزائلز اور 360 درجے میڈز ملٹی فنکشن فائر کنٹرول ریڈار (ایم ایف سی آر)  شامل ہیں۔ نظام کے تمام عناصر نے منصوبہ بندی کے مطابق کام کیا۔

میڈز ایک اگلی نسل کا، زمینی متحرک اے ایم ڈی نظام ہے جو 360 درجے کے ریڈارز، منسلکہ و منقسم جنگی انتظام، آسان سے نقل و حمل کے قابل لانچرز اور ایک ہٹ-ٹو-کل پی اے سی-3 ایم ایس ای میزائل پر مشتمل ہے۔

پہلا ہدف، جنوب کی جانب سے آنے والا ایک کیو ایف-4 ایئر بریدنگ میزائل تھا، جس کے لیے شمال کی جانب سے عام بالسٹک میزائل کے خط حرکت پر ایک لانس میزائل داغا گیا۔ سرویلنس ریڈار نے دونوں اہداف کو حاصل کیا اور میڈز بیٹل مینیجر کو ہدف کی جانب اشارہ دیا، جس نے ایم ایف سی آر کو ہدایات فراہم کیں۔ ایم ایف سی آر نے دونوں اہداف کا راستہ کامیابی سے ڈھونڈا اور لانچرز سے میزائلوں کو اطالوی و جرمنی کنفیگوریشن میں رہنمائی دی تاکہ وہ کامیابی سے ہدف کو جا لیں۔

ناٹو میڈز مینجمنٹ ایجنسی جنرل مینیجر گریگری کی نے کہا کہ “آج کا کامیاب تجربہ تین ممالک کے لیے بہترین ہے جو دنیا کا جدید ترین اور فضائی و میزائل دفاع نظام تیار کرنے، بنانے اور آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ کوئی بھی فیلڈڈ زمینی-متحرک اے ایم ڈی نظام بیک وقت دو مختلف سمتوں سے آنے والے دو اہداف کو راستے میں نہیں روک سکتا، جیسا کہ آج میڈز نے کردکھایا۔ میڈز ٹیکنالوجی نیٹ ورکڈ اے ایم ڈی صلاحیتوں کو حاصل کرنے کے لیے پختہ، نیٹ ورک تیار بیٹل مینجمنٹ، سینسرز اور لانچرز کی حیثیت سے آگے بڑھائی جا سکتی ہے جس کا خواب جرمنی، اٹلی اور امریکہ نے دیکھا۔”

تجربے نے پی اے سی-3 ایم ایس ای میزائل کی ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے کندھوں پر حرکت پذیری کا مظاہرہ کیا۔

میڈز انٹرنیشنل کے صدر ڈیو برگانینی نے کہا کہ “میڈز ہارڈویئر اور سافٹویئر کی پختگی کی بنیاد پر ہم نے اپنے صارفین کو کہا کہ وہ اس تجربے کو دو اہداف کو راستے میں پکڑنے تک بڑھائے۔ میڈز پروگرام مستقل اپنے عہد کو پورا یا اس سے بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ رواں سال کے اوائل میں میڈز نے کامیابی سے ریڈار کیونگ، اور جوائنٹ پروجیکٹ آپٹک ونڈمیل (جے پی او ڈبلیو) کے دوران نیٹو سسٹمز کے ساتھ باہمی کارگزاری  کا مظاہرہ کیا اور ہمارے موڈ 5 آئی ایف ایف سسٹم کی سرٹیفکیشن حاصل کی۔ اب ہم  دو اہداف کو نشانہ بنانے کے غیر معمولی مظاہرے سے حیران ہیں جنہوں نے تجربے کے مقاصد کو پورا کیا اور میڈز کو مزید آگے بڑھانے اور یورپ میں اس کے تجربات کرنے کے لیے تیار کیا۔”

میڈز پرواز کے تجرباتی مقاصد 3-برائے-3 پروگرام ہیں۔ نومبر 2011ء  میں میڈز نے ایک ایئر-بریدنگ ہدف کو جا لینے کا تجربہ کیا۔ نومبر 2012ء میں میڈز نے ایک ایم کیو ایم-107 ہدف کو حاصل کیا اور کھوج لگاتے ہوئے اسے تباہ کر ڈالا۔ دونوں تجربات نے مکمل پیمانے پر پی اے سی-3 میزائل کے ساتھ 360 درجے کے دفاع  کا مظاہرہ کیا جس میں کندھے پر رکھ کر میڈز جائے وقوعہ سے حملہ آور اہداف کو زیر کرنے کے لیے نشانہ لگایا گیا ۔

اورلینڈو، فلوریڈا میں صدر دفاتر کا حامل کثیر القومی شمترکہ منصوبہ میڈز انٹرنیشنل میڈز سسٹم کا بنیادی ٹھیکیدار ہے۔ کئی ذیلی ٹھیکیدار اور مشترکہ منصوبے کے شراکت دار اٹلی اور جرمنی میں ایم بی ڈی اے اور امریکہ میں لاک ہیڈ مارٹن ہیں۔

میڈز پروگرام کا انتظامی ادارہ NAMEADSMA ہے جو ہنٹس ولے، الاباما میں قائم ہے۔

The post وائٹ سینڈز میزائل رینج میں میڈز کی دو اہداف کو نشانہ بنانے میں غیر معمولی کامیابی appeared first on AsiaNet-Pakistan.

Previous
Next

Leave a Reply