Skip to Content

Tuesday, November 21st, 2017

اقوام متحدہ کے اجلاس میں عالمی تعلیم پر نئے کمیشن کے لیے رہنماؤں کی تقرری

Be First!
by September 23, 2015 General, Urdu News

نیو یارک، 22 ستمبر 2015ء/ پی آرنیوزوائر– بیس سے زیادہ عالمی رہنماؤں، جن میں پانچ سابق صدور اور وزرائے اعظم اور تین نوبیل انعام یافتہ شامل ہیں، کو دنیا بھر میں تعلیم میں سرمایہ کاری میں کمی کا رخ تبدیل کرنے کے لیے نئے بین الاقوامی کمیشن برائے عالمی تعلیم مواقع میں سرمایہ کاری میں مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت ناروے اور وزیراعظم ارنا سولبرگ کی مدد کا حامل کمیشن عالمی تعلیم کے مستقبل کا جائزہ لے گا جس میں اس وقت 124 ملین نوعمر افراد اسکول سے باہر ہیں۔

انفرادی شخصیات کے اس متنوع گروپ کا انتخاب ایک اہم وقت پر کیا گیا ہے جہاں پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ بچے اسکولسے باہر ہیں اور بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی نے لاکھوں بچوں کو کمرہ جماعت سے نکال کر مہاجر بنا دیا ہے جن کے لیے تعلیم کی کوئی امید نہیں۔ کمیشن تلاش کرے گا کہ کس طرح آئندہ 15 سے 20 سالوں میں تعلیم بہتر اقتصادی نمو، بہتر صحت نتائج اور بہتر عالمی امن و امان کی جانب رہنمائی کرسکتی ہے۔

کمیشن کو وزیراعظم ناروے کے ساتھ چلی کی صدر مشیل بیچیلیٹ، صدر انڈونیشیا جوکو وڈوڈو ، صدر ملاوی پیٹر متھاریکا اور یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل ارینا بوکوا نے مشترکہ طور پرمنعقد کیا۔

عالمی تعلیم پر اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر گورڈن براؤن کو کمیشن کا چیئر مقرر کیا گیا۔

وزيراعظم سولبرگ نے کہاکہ “غربت کے خلاف جدوجہد میں تعلیم کلید ہے، اور میرا ماننا ہے کہ ترقی میں واحد سب سےطاقتور سرمایہ کاری لڑکیوں کی تعلیم ہے۔ جب آپ لڑکی کو تعلیم دیتے ہیں تو آپ ایک قوم کو علم سے منور کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کمیشن 2030ء اور اس سے آگے ترقی کے لیے تعلیم کے حصول کی خاطر درکار وسائل کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔”

کمیشن مندرجہ ذیل رہنماؤں پر مشتمل ہے:
• آننت اگروال، سی ای او، ای ڈی ایکس
• ہوسے مینوئل باروسو، سابق صدر، یورپی کمیشن
• فلپ کالدیرون، سابق صدر، میکسیکو
• کرسٹن کلیمٹ، مینیجنگ ڈائریکٹر کیویٹا
• الیکو ڈینگوٹ، سی ای او، ڈینگوٹ گروپ
• جولیا جیلارڈ، چیئر، عالمی شراکت داری برائے تعلیم اور سابق وزیراعظم آسٹریلیا
• بیلا رضا جمیل، ڈائریکٹر پروگرامز برائے ادارۂ تعلیم و آگہی
• لی جو-ہو، سابق کوریائی وزیر تعلیم
• جم کم، صدر، عالمی بینک گروپ
• اینتھنی لیک، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، یونی سیف
• جیک ما، بانی و ایگزیکٹو چیئرمین، علی بابا گروپ
• گریکا میچل، بانی، گریکا میچل ٹرسٹ
• اسٹرائیو ماسی ییوا، سی ای او، ایکونیٹ وائرلیس
• ٹیوپسٹا بیرونگي میانجا، بانی، یوگینڈا نیشنل ٹیچرز یونین
• اینگوزی اوکونجو-اویئلا، سابق وزیر خزانہ، نائیجیریا
• کیلاش ستھیارتھی، بانی، بچپن بچاؤ اندولن
• امرتا سین، پروفیسر، ہارورڈ یونیورسٹی
• تھیو سووا، سی ای او، افریقن ویمنز ڈیولپمنٹ فنڈ
• لارنس سمرز، صدر امریطس، ہارورڈ یونیورسٹی؛ 71 ویں وزیر خزانہ برائے صدر کلنٹن اور ڈائریکٹر قومی اقتصادی کونسل برائے صدر اوباما
• ہیلی تھورننگ-شمٹ، سابق وزیراعظم ڈنمارک

متحدہ عرب امارات کی وزیر برائے بین الاقوامی تعاون و ترقی شیخہ لبنیٰ القاسمی کمیشن کے افتتاحی اجلاس میں شامل ہوں گی۔ جیفری ساکس، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی مشیر، کمیشن کے تیسرے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ملالہ یوسف زئی کمیشن کے یوتھ پینل میں شمولیت اختیار کریں گی۔

کمیشن کا اجلاس 29 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ہوگا تاکہ عالمی رہنماؤں کو عملی قدم اٹھانے کے لیے متاثر اور مائل کرنے کے لیے اقتصادی صورت بنانی شروع کی جائے۔ ستمبر 2016ء میں کمیشن شریک-کنوینرز اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی-مون کو جوابدہ ہوگا جو رپورٹ موصول کرنے اور اس کی سفارشات پر عملی قدم اٹھانے پر رضامندی ظاہر کرچکے ہیں ۔
مزید سوالات کے لیے رابطہ کیجیے:
کرسٹی ویلڈر
فل پکچر
+1-212-995-2147
cwelder@fullpic.com

Previous
Next

Leave a Reply