Skip to Content

Wednesday, December 12th, 2018

آئی ایف ایف سالانہ عالمی کانفرنس میں چین کے نقطۂ نظر پرعالمی اتفاق رائے

Be First!
by November 27, 2018 General

گوانگژو، چین، 26 نومبر 2018ء/سنہوا-ایشیانیٹ/– 15 ویں سالانہ عالمی کانفرنس انٹرنیشنل فائنانس فورم (آئی ایف ایف) 24 سے 25 نومبر کو جنوبی چین کے شہر گوانگژو میں منعقد ہوئی۔ عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات اور بین الاقوامی تعاون میں حصہ ڈالنے کی خاطر چین کے پلیٹ فارم کی حیثیت سے اس ایونٹ نے دنیا بھر سے مالیات و اقتصادیات کے 200 سے زیادہ رہنماؤں کو جمع کیا۔ عالمی اقتصادی و مالیاتی نظام کو برقرار رکھنے میں مدد کے لیے مالیات کی بنیادوں پر کھلے مذاکرات کیے گئے۔

عالمگیریت کے نئے عہد میں ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ دنیا کو تجارتی آزادی تجارتی تنازع اور مالیاتی خطرات کے بڑھنے کے مقابلے میں ردعمل کا سامنا ہے۔ اس صورت حال میں مالیاتی برادری ایک مضبوط تر عالمی معیشت کے لیے طریقوں پر گفتگو کر رہے ہیں اور صاحبان بصیرت کی توجہ چین پر ہے، جو اپنی اصلاحات اور دنیا کے سامنے کھلنے کی پالیسی کی وجہ سے فروغ پا رہا ہے۔ چین میں سب سے بڑی اور مالیاتی طور پر سب سے متحرک اور بین الاقوامی معیشتوں میں سے ایک ہونے کی وجہ سے گوانگژو ترقی میں ایک طویل تجربے کے ساتھ دنیا کو متاثر کرتا ہے۔

عالمگیریت کے اِس عہد میں مالیات ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ “مالیات میں تعاون ہمیں ترقی کے لیے وسیع تر امکانات کھولنے میں مدد دے گا کیونکہ عالمی مالیاتی مارکیٹیں باہم منسلک ہیں،” شوکت عزیز، سابق وزیر اعظم پاکستان نے تقریب میں کہا۔ بنی نوع انسان کے لیے مشترکہ مستقبل کے ساتھ بین الاقوامی مالیاتی تعاون کسی بھی برادری کی تشکیل کا جزوِ لاینفک ہے، جیسا کہ کانفرنس میں آئی ایف ایف کی جانب سے پیش کردہ کلیدی رپورٹ میں دکھایا گیا۔ “مالیاتی تعاون بحری شاہراہِ ریشم کے ساتھ ساتھ: گریٹر بے ایریا کی بین الاقوامی مالیاتی مرکز کی حیثیت سے مشترکہ تعمیر” اور اس حوالے سے دیگر موضوعات پر توجہ مرکوز کی گئی اور ایک مضبوط تر عالمی معیشت کے لیے مالیاتی تعاون کو فروغ دینے میں چین دنیا کے ساتھ کیسے کام کرتا ہے اس کی جھلک پیش کی گئی۔ بین الاقوامی جدت طرازمالایتی خدمات کے لیے بیلٹ اینڈ روڈ کے نئے مرکز کی حیثیت گوانگژو کا نانشا ڈسٹرکٹ حقیقتاً نمایاں ہے۔

“کانفرنس اقتصادی عالمگیریت کے مستقبل، بین الاقوامی تجارتی نظام اور میکانزم، جدت طرازی اور بڑھتی ہوئی عالمگیریت اور اصلاحات و کھلنے کو مرکزی حیثیت دیتی ہے۔ ان بنیادوں پر شرکاء خیالات و افکار کا تبادلہ کر رہے ہیں اور ہمیں درپیش چیلنجز کے حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،” چم سیاؤچوان، آئی ایف ایف کے صدر اور سابق گورنر پیپلز بینک آف چائنا نے کہا۔ چین کی اپنے تجویز کردہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے (بی آر آئی) کی ترویج اور عالمگیریت سے وابستگی بڑے پیمانے پر تسلیم شدہ ہے۔ چین کی دانائی کانفرنس میں بہت زیادہ موضوعِ گفتگو اور عالمی اتفاقِ رائے کے مطابق بنی۔

یہ چینی حل اس کی کامیاب مشقوں کا نتیجہ ہے۔ بی آر آئی کے نفاذ اور گوانگ ڈونگ-ہانگ کانگ-مکاؤ گریٹر بے ایریا کی تعمیر سے آئی ایف ایف ایف کے مستقل مقام گوانگژو نے ترقی کے لیے زیادہ مواقع پائے۔ جیمز جے شیا، سینیئر نائب صدر یونائیٹڈ بینک آف سوئٹزرلینڈ نے کہا کہ “چین اپنے کاروباری ماحول کو مستقل بہتر بناتا اور اپنی مالیاتی مارکیٹ کو کھول رہا ہے، اور گریٹر بے ایریا، جس میں گوانگژو موجود ہے، زبردست امکانات رکھتا ہے۔”

بنیادی طور پر مالیاتی تعلق معیشت کو تقویت دینے والی ایک اہم طاقت ہے۔ “اب جبکہ مالایت عالمی اقتصادی نمو کے لیے ایک نیا محرّک ہے، امید کی جاتی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی تعاون اب مشترکہ ترقی کی رہنمائی کرے گا،” ژو نے کہا۔ چین کی جدید مالیات یہاں جنم لینے کے ساتھ گوانگژو اقتصادی و مالیاتی لحاظ سے چین کے متحرک ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ دنیا کو ایک بہترین مثال پیش کرتا ہے کہ جہاں معیشت اور مالیات ایک دوسرے کے ساتھ تقویت اختیار کر سکتی ہیں۔

گوانگژو گلوبل فائنانشل سینٹر انڈیکس کی چوبیسویں رپورٹ (جی ایف سی آئی 24) میں 19 ویں درجے پر ہے، جو بین الاقوامی ایکسچینج سینٹر اور ایک پائلٹ فری ٹریڈ ایریا (یا بندرگاہ) کی حیثیت سے ابھرنے کے اپنے عہد کی وجہ سے ہے۔ اس سے آگے یہ بیلٹ اینڈ روڈ ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے، گریٹر بے ایریا کی تعمیر کو آگے بڑھانے اور مالیاتی اصلاحات اور زیادہ بین الاقوامی شہر بننے کے لیے اپنی بانہیں کھولنے کے عمل میں بھی پیش پیش ہے۔ اسٹیون ایم لیوِٹ، بانی پارک سٹن ایڈوائزرز مانتے ہیں کہ زیر تعمیر گریٹر بے ایریا بین الاقوامی مالیاتی مرکز کی حیثیت سے گوانگژو کی صورت گری میں نئی تحریک پیدا کرے گا۔

اب جبکہ دنیا نئی معیشتوں کو ابھرتے ہوئے دیکھ رہی ہے، چین کی جانب سے اختیار کردہ حل ایک تبدیل ہوتی عالمگیریت کے ردعمل میں معیاری ترقی اور تبدیلی کے لیے ہیں۔ یوں بین الاقوامی مالیات کو بالخصوص جدت طراز رہنے کی ضرورت ہے۔ “نانشا، مالیات میں بیرونی دنیا کے لیے اپنی بانہیں کھولنے کے عملی نمونے کی حیثیت سے، ہانگ کانگ اور مکاؤ کے ساتھ اپنے مالیاتی تعاون کو بڑھائے گا اور حقیقی معیشت کو خدمات فراہم کرنےکے لیے اپنی قابلیت کو بہتر بنائے گا۔ یہاں موجود ادارے ایک دن کے اندر کاروبار کی رجسٹریشن اور ٹیکس انوائس کے ضابطوں کو پورا کرنے کے قابل ہیں،” کائی چاؤلن، سیکریٹری نانشا کی پارٹی کمیٹی نے کہا۔ اتنا آسان ماحول، جو دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے، نانشا اور یہاں تک کہ گوانگژو میں بھی مالیاتی شعبے کی نمو کو تیز تر کرے گا۔

درحقیقت، کانفرنس کے شرکاء سست عالمی معیشت میں نئے اقتصادی محرکات کی تلاش کے اہم مشن پر ہیں۔ ایسے موضوعات پر سیشنز جیسا کہ “تخلیق از چین اور ساختہ چین: جدت طراز رویّے اور ماحول” اور “نیا سرمایہ نئے عہد کی رہنمائی کرتا ہوا” زبردست بحث کو جنم دیتا ہے۔

حالیہ سالوں میں گوانگژو حقیقی معیشت پر مالیاتی جدت طرازی لاگو کر چکا ہے اور مالیات کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی کو اس طرح جوڑ چکا ہے تاکہ مضبوط مالیاتی ماحول بنے جو محفوظ، ہموار اور مؤثر ہو، راجیش سنگھ، جرنل مینیجر ماڈل ڈیولپمنٹ اینڈ رسک مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ، بینک آف امریکا نے یکبارگی کہا۔ یہ کوششیں جدید مالیاتی ٹیکنالوجی میں انقلاب کے لیے زبردست موقع بنیں گی، انہوں نے مزید اضافہ کیا۔

مالیاتی جدت طرازی میں اپنی ثابت قدمی کے مظاہرے کے لیے گوانگژو چند سالوں میں مالیاتی اصلاحات کو بڑھا چکا ہے، جیسا کہ نانشا نیو ایریا (15 پالیسی منظور شدہ) اور نانشا فری ٹریڈ ایریا اور ماحول دوست مالیات میں، جو اسے چین میں پائلٹ مالیاتی اصلاحات پروگراموں کی سب سے بڑی تعداد کا حامل شہر بنا رہے ہیں۔ اور نانشا، 6,000 سے زیادہ مالیاتی اداروں کے ساتھ، جدت طرازی کے لیے زیادہ وسائل جمع کر چکا ہے۔ پائلٹ پروگرام جیسا کہ گرین بونڈ، امریکی ڈالرز میں چین کی اولین بین السرحدی لیزنگ ایسیٹ ٹرانزیکشنز، فری ٹریڈ زونز میں سرفہرست 10 طریقوں میں شامل ہو چکی ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گوانگژو کے مالیاتی شعبے میں اضافی قدر گزشتہ پانچ سالوں میں 106 فیصد بڑھی، جس نے کسی بھی دوسرے شہر کو پیچھے چھوڑا۔ یہ سب زبردست اعداد و شمار دنیا کے لیے ایک تحریک بن سکتے ہیں۔

اصلاحات اور اپنی بانہیں کھولنے کے 40 سال مکمل ہونے پر چین زیادہ کھلنے اور بین الاقوامی تعاون کو بہتر بنانے سے وابستہ ہے۔ ایک متوازی سیشن بموضوع “مشترکہ طور پر گریٹر بے ایریا کا مستقبل تخلیق کرتے ہوئے – نانشا اور ہانگ کانگ و مکاؤ کے درمیان مالیاتی تعاون کا امکان”، میں اجلاس کے شریک ماہرین کا عموماً ماننا تھا کہ مکاؤ نانشا گوانگ ڈونگ، ہانگ کانگ اور مکاؤ کے درمیان مالیاتی تعاون کے لیے اہم ترین مقام کے ساتھ صوبے کے لیے ہانگ کانگ اور مکاؤ سے منسلک ہوکر عالمی سطح پر پہنچنے اور بین الاقوامی وسائل کی توجہ مبذول کروانے کے لیے صوبے میں سب سے نمایاں تھا۔

عالمگیریت کی نئی ترقی کے روبرو نانشا چین کے نمونے کی حیثیت سے باصلاحیت افراد، سرمائے اور اداروں کی توجہ حاصل کرنے، یوں بین الاقوامی تعاون کے ذریعے فِن-ٹیک ترقی کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے چینلز اور پلیٹ فارمز بنا چکا ہے۔ بنی نوع انساں کے لیےایک مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک برادری تشکیل دینے پر ایک عالمی اتفاق رائے ہے جو مجموعی سوجھ بوجھ جمع کرے اور سب کے فائدے کے لیے پیش کرے، جیسا کہ آئی ایف ایف میں مذاکروں اور تبادلوں سے ظاہر ہوا۔

ذریعہ: انٹرنیشنل فائنانشل فورم

Previous
Next

Leave a Reply