Skip to Content

ایکس جے ٹی ایل یو ماہر: غربت کے خلاف چین کی جنگ سے سیکھے گئے اسباق

Closed

سوزو، چین، یکم مارچ، 2021 / پی آر نیوز وائر / – سال 2016 میں، چین نے باضابطہ طور پر یہ عہد کیا تھا کہ 2020 کے اختتام تک، وہ اپنی بقیہ 832 کاؤنٹیز کو انتہائی غربت سے باہر نکال لے گا، یہ ہدف گذشتہ نومبر میں پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔ گذشتہ جمعرات کو چین کے صدر شی جن پنگ نے منصوبے کے اہم شرکاء کی عزت افزائی کے لئے بیجنگ میں منعقدہ ایک پروگرام میں اس کامیابی کو “مکمل فتح” کے طور پر سراہا۔

ژیان جیاونگونگ لیورپول یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی مطالعات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر الیسیندرا کیپلیٹی کہتی ہیں کہ اس منصوبے کے اتنے کامیاب ہونے کی کچھ وجوہات ہیں، اور ان کے خیال میں اس میں اور بھی بہت سے اسباق ہیں جو دوسرے ممالک سیکھ سکتے ہیں۔

سبق 1: اپنی ترجیح بنانا

ڈاکٹر کیپلیٹی کہتی ہیں کہ چین کے منصوبے کی کامیابی کی کلیدوں میں سے ایک اس کی مضبوط سیاسی قوت ارادی تھی۔ ” بیوروکریٹک نقطہ نظر سے حکومت نے پوری مشین متحرک کردی۔”

وقت مقررہ تک پہنچنے کے لئے معاملات درست راہ پر گامزن تھے، لیکن اس سال کے ابتدا میں، کوویڈ 19 وبائی امراض دنیا بھر میں معاشی سست روی کا باعث بن گیا۔

پروگرام کو روکنے کے بجائے، مرکزی حکومت نے فوری طور پر مقامی اہلکاروں کو اہداف پر کام جاری رکھنے کی ہدایات جاری کردیں۔ ڈاکٹر کیپلیٹی کا کہنا تھاکہ “جب مرکزی حکومت ایک متعین مقصد کا عزم کرتی ہے، تو واقعتا یہ ایک امرِ لازم بن جاتا ہے۔”

سبق نمبر 2: مستقبل کا سوچنا

ایک بار جب کسی ملک کو غربت سے باہر نکال لیاجائے ،تو سرکاری عہدیداران کے لئے کام کی بہتر تکمیل پر آرام سے بیٹھ کر خود پر فخر کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

تاہم، ڈاکٹر کیپلیٹی کا کہنا تھاکہ “چینی پالیسی سازوں کے خیال میں ہر کامیابی 10 مزید مسائل پیدا کرتی ہے۔ یہ ‘نسبت’ عالمگیر نظریے سے ہے، جو ہر معاملے میں پیچیدگی دیکھتی ہے۔”

ان میں سے ایک نیا مسئلہ دولت کو برقرار رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا، “ایک حکمت عملی کاشتکاروں کو ان کے کاروبار کے فروغ میں مدد فراہم کرنا ہے۔ بیجنگ میں چین کی زرعی یونیورسٹی نے سیچوآن کے ایک گاؤں میں کسانوں کو اپنے مکانات کی تزئین نو اور سیاحوں کو کمرے کرائے پر دینے میں مدد فراہم کی۔”

سبق نمبر 3: اندرونی حالات پر نظر رکھنا

کیپلیٹی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کئی سالوں سے چین نے اپنے معاشی نقطہء ارتکاز کو تبدیل کر دیاہے: “چین کے معاشی نظام کو ایک ارزاں مزدوری پر مبنی اور کوئلے پر انحصار کرنے سے آگے بڑھ کر جدید ٹیکنالوجی کی قیادت میں سرگرم ایک ماڈل میں ڈھالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔” ملک نے مقامی مارکیٹ کو فروغ دینے اور برآمدات پر انحصار کم کرنے کو بھی ترجیح دی ہے۔

مقامی معیشت کی حوصلہ افزائی کا ایک بلا واسطہ ذریعہ تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو بڑھانا ہے، کیونکہ جب یہ خدمات عام شہریوں کو زیادہ ارزانی سے میسر ہوں تو اس سے مزید خالص آمدنی ہوتی ہے، انہوں نے وضاحت کی۔

“بے شک، ابھی بھی کچھ مسائل موجود ہیں۔ لیکن پُر امید نہ ہوا جائے، یہ دُشوار ہے” ان کا یہ کہنا تھا۔

Previous
Next