Skip to Content

Sunday, September 19th, 2021

متحدہ عرب امارات کی جانب سے ہندوستانیوں کے لئے سفری پابندی میں توسیع سے تارکین بیرون ملک پھنس گئے

Closed

لندن، 28 جولائی، 2021 / پی آر نیوز وائیر / — متحدہ عرب امارات نے کوویڈ سے منسلکہ رہنما ہدایات کی وجہ سے ہندوستان اور جنوبی ایشیاء کے کئی دوسرے ممالک سے آنے والے مسافروں کے لئے پابندی میں توسیع کردی ہے۔ اتحاد ایئر لائن کے مطابق یہ پابندی 31 جولائی تک برقرار رہے گی۔ تاہم، دیگر ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ یہ جائزہ حکومت کے زیر التوا ہے۔ اس توسیع میں متحدہ عرب امارات کے شہری، سفارت کار یا ملک میں سرمایہ کاری کا ویزا رکھنے والے افراد کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ نہ ہی اس میں مکمل طور پر حفاظتی ٹیکے لگوانے والے وہ مسافر شامل ہیں جو رہائشی ویزا رکھتے ہیں اور 23 جون سے اب تک تین ٹیسٹ کرواچکے ہیں۔

تاہم، جو لوگ اس خطے سے باہر ہیں اور بزنس کرنے یا متحدہ عرب امارات میں تفریح کے لئے سفر کرنے کی امید رکھتے ہیں انھیں پابندیوں کے خاتمے کے لئے انتظار کرنا ہوگا۔ اپریل کے بعد سے، ہندوستان میں بیرون ملک جانے والے تارکین کی حالت دگرگوں ہے جس نے بہت سے لوگوں کو اپنے حق انتخاب کا ازسر نو جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ محدود نقل و حرکت سے دوچار افراد کے لئے متبادل حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہوگئی ہے، جو نہ صرف کاروبار کو متاثر کر رہی ہے بلکہ اس سے خاندان کی سالمیت کو بھی خطرہ درپیش ہے۔

وبائی مرض کے آغاز کے بعد سے، دوسری شہریت کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے تا کہ اس سے اثاثوں کو وسعت دینے کے ایک ذریعے کے بطور فائدہ اٹھایا جاسکے جبکہ غیر یقینی صورتحال کے دور میں یہ ایک حفاظتی ضمانت بھی فراہم کرتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2020 سے اب تک 5000 کے قریب اعلیٰ خالص دولت کے حامل ہندوستانی ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ مجموعی طورپر، یہاں شہریت بذریعہ سرمایہ کاری (سی بی آئی) کے لئے دلچسپی میں زبردست رجحان رہا ہے — ایک ایسا عمل جس کے ذریعے کسی درخواست دہندہ اور اس کے اضافی زیرکفالت افراد کو اس وقت شہریت مل جاتی ہے جب وہ کسی میزبان ملک میں ایک معاشی حصہ ڈال دیتا ہے۔

سی ایس گلوبل پارٹنرز (ایک عالمی سرمایہ کار امیگریشن فرم جو شہریت کے حل فراہم کرنے میں مہارت رکھتی ہے) کی سی ای او میچا ایمیٹ کہتی ہیں، “جب حکومتیں زیادہ تنگ نظر ہوجاتی ہیں اور سخت ویزا پابندی نافذ کرتی ہیں تو، عالمی سطح پر سفر کرنے اور کاروبار کرنے کا موقع کافی حد تک معطل ہوجاتا ہے۔ لہذا، شہریت بذریعہ سرمایہ کاری اس کو پلٹنے کا ایک پُروقار ذریعہ ہے، اس طرح یہ ہندوستانی شہری کو سفر اور کاروباری مواقع تک بہتر رسائی فراہم کرتا ہے۔”

1993 سے، ڈومینیکا نے دوسروں کے ساتھ ہندوستانی سرمایہ کاروں کو بھی کیریبین قوم کا شہری بننے کے لئے خوش آمدید کہا ہے۔ ملک کا سی بی آئی پروگرام کامیاب درخواست دہندگان کو دوسری شہریت کے قابل اعتماد راستے کے ساتھ ، 140 سے زائد مقامات تک زیادہ سفری آزادی، اعلی درجے کے تعلیمی اداروں تک رسائی اور متبادل کاروباری امکانات جیسے فوائد فراہم کرتا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے پی ڈبلیو ایم کے ماہرین کی جانب سے کیے گئے ایک سالانہ آزاد مطالعے نے اس پروگرام کو دوسری شہریت کے لئے دنیا کی بہترین پیش کش کا درجہ بھی دیا ہے۔

447867942505+
pr@csglobalpartners.com
www.csglobalpartners.com

Previous
Next