Skip to Content

Wednesday, June 20th, 2018

یو این سی ٹی اے ڈی اور علی بابا بزنس اسکول کے ای فاؤنڈرز فیلوشپ پروگرام کے ایشیائی کاروباری منتظمین گریجویٹس کی پہلی کلاس

Closed

یہ سنگ میل باہمی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے یو ین سی ٹی اے ڈی کے اہداف کی جانب علی بابا کے مستقل عزم کا مظہر ہے

جنیوا اور ہانگچو، چین، 5 اپریل 2018 / پی آر نیوزوائر /–

علی بابا گروپ کے ایگزیکٹو چیئرمین جیک ما ای فاؤنڈرز شرکاء سے کاروباری انتظام و دیگر موضوعات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

ای فاؤنڈرز فیلوشپ کے تحت ایشیائی کاروباری منتظمین کی پہلی کلاس ہانگچو، چین میں ایک تقریب کے دوران گریجویٹ ہوگئی۔ یہ پروگرام تجارت و ترقی پر اقوام متحدہ کی کانفرنس (یو این سی ٹی اے ڈی) اور علی بابا بزنس اسکول کا مشترکہ منصوبہ ہے جس کا مقصد نوجوان کاروباری منتظمین کو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار اور ڈیجیٹل تقسیم کے درمیان رابطے کے لیے تیار کرنا ہے۔

دوسرے ای فاؤنڈرز پروگرام کی تکمیل کے ساتھ علی بابا اس عہد کو پورا کرنے کے مزید قریب ہوگیا ہے جو علی بابا گروپ کے بانی اور ایگزیکٹو چیئرمین جیک ما نے نوجوان کاروباری منتظمین اور چھوٹے کاروبار کے لیے یو این سی ٹی اے ڈی کے خصوصی مشیر کے طور پر کیا تھا۔اگلے پانچ سالوں کے دوران علی بابا اور یو این سی ٹی اے ڈی ترقی پذیر ممالک میں 1000 کاروباری منتظمین کو باہمی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ڈیجیٹل انقلاب کو مزید استعمال کرنے کے قابل بنائیں گے۔

عالمی ای فاؤنڈرز فیلوشپ کی پہلی کلاس کے 37 ایشیائی شرکاء کا علی بابا گروپ ایگزیکٹیو چیئرمین جیک ما کے ساتھ گروپ فوٹو

یو این سی ٹی اے ڈی کوآرڈینیٹر برائے ای فاؤنڈرز انیشی ایٹیو آرلیت ورپلوئف نے کہا کہ “ان نوجوان کاروباری منتظمین کی پرجوش روح و تخلیقی صلاحیت اور پائیدار ترقی کے مقاصد کے ضمن میں ان کی جانب سے جس بے لوث نقطہ نظر کا اظہار کیا گیا، وہ بہت حوصلہ افزا ہے۔”

“ان کی کہانیاں واقعی متاثر کن ہیں اور حقیقی زندگی کی مثال پیش کرتی ہیں کہ نوجوان نسل اپنی برادری کے فائدے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے اقتصادی مواقع پیدا کرسکتی ہے۔” محترمہ ورپلوئف نے مزید کہا۔

نئی ڈیجیٹل اقتصادیات کے لیے چیمپیئنز کی تشکیل

پورے 11-روزہ پروگرام میں ایشیائی کاروباری منتظمین نے براہ راست بصیرت حاصل کی، دوروں میں حصہ لیا اور لیکچرز میں شرکت کی تاکہ گزشتہ 20 سالوں میں چین میں آنے والے ڈیجیٹل انقلاب کو سمجھ سکیں۔

علی بابا کو بطور اسٹڈی ماڈل سمجھنے کے ساتھ مقامی انکیوبیٹرز اور ای-کامرس کاروباری اسکولوں کے دورے اور ملاقاتیں بھی کی گئیں جن سے شرکاء نے علی بابا کے پلیٹ فارم کے ایکوسسٹم اور حلوں سمیت تاؤباؤ مارکیٹ پلیس، ٹی مال، علی بابا ڈاٹ کام، کینیاؤ نیٹ ورک، ہیما اور فلیجی کے علاوہ صنعت کے حالیہ رجحانات اور ترقی جیسا کہ نیو ریٹیل، دیہی ای کامرس اور انٹرنیٹ کی مشہور ہستیوں کے ظہور کا بھی جائزہ لیا۔

یو این سی ٹی اے ڈی لوگو

ان پُر اثر اور دلکش سیشنز کے ذریعے شرکاء نے چین میں ڈیجیٹل اقتصادیات کی ترقی اور تعاون کے لیے علی بابا گروپ کے طے کردہ خیالات کو سمجھا اور پرکھا کہ حاصل ہونے والے اسباق کو اپنی مقامی مارکیٹ میں کس طرح لاگو کیا جاسکتا ہے۔

علی بابا گروپ کے نائب صدر برائن وونگ، جو عالمی منصوبہ جاتی پروگرام کی سربراہی کر رہے ہیں، نے کہا کہ “ہم علی بابا اور اپنے شراکت داروں کے نیٹ ورک میں موجود بہترین اور معروف قابلیت رکھنے والے افراد کی جانب سے عملی و نظریاتی سیشنز کے ذریعے نوآموز کاروباری منتظمین کو نئی سوچ سے آراستہ کرنا اور کامیابی کے لیے وسائل فراہم کرنا چاہتے ہیں۔”

“علم کے حصول کے لیے ان کا جذبہ بہت حوصلہ افزاء ہے۔” انہوں نے کہا۔ “چین میں ڈیجیٹل رجحان سے متعلق ان کے مسلسل سوالات اور مسائل پر زبردست بحث نے انہیں نئے خیالات کھوجنے اور خود اپنے کاروباروں کے لیے زیادہ جامع اور باہمی ترقی کے نمونے کے حصول کے قابل بنایا جس سے وہ اپنے آبائی علاقوں کی برادریوں کو فائدہ پہنچا سکیں۔”

علی بابا کے اعلیٰ عہدیداران اور کامیاب ای-کامرس اداروں جیسا کہ بھارت کے نمایاں ای-والٹ فراہم کنندہ پے ٹی ایم اور جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے بڑے ای-کامرس پلیٹ فارم لزاڈا تک رسائی پروگرام کا منفرد پہلو تھا۔

علی بابا بزنس اسکول لوگو

اس کے علاوہ شرکاء نے علی بابا کی متعدد جدید سہولیات جیسا کہ ہیما فریش کا بھی دورہ کیا تاکہ نیو ریٹیل کے مستقبل کی فطری نمائندگی کا تجربہ حاصل کرسکیں۔ کینیاؤ جیاسنگ لاجسٹکس مرکز کے دورے کے ساتھ اسمارٹ لاجسٹکس کو سمجھنے اور بینیو ولیج، جسے زندگی کے ہر شعبے میں ای-کامرس کے ہموار انضمام کی بدولت آن لائن شاپنگ ویب سائٹ بن جانے کے بعد چین کا تاؤباؤ ولیج بھی کہا جاتا ہے، میں دیہی ای-کامرس ترقی کے اعلیٰ صلاحیتوں کے تعارف کا بھی موقع حاصل ہوا۔

مستقبل کی چینی سلیکان ویلی چیجیانگ میں ڈریم ٹاؤن انکیوبٹر اور عوام کے لیے تھوک تجارت کے کلیدی مرکز اور دنیا کی سب سے بڑی آف لائن بی2بی مارکیٹ ییوو سٹی کا دورہ کر کے اینٹری پرینیورز نے چینی سوسائٹی پر ٹیکنالوجی کے تغیراتی اثرات کا بھی جائزہ لیا۔

دنیا بھر کی برادریوں کے لیے عالمی فیلوشپ

11-روزہ پروگرام کے اختتام پر شرکاء کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنے ساتھی کاروباری منتظمین اور آبائی علاقے میں اپنی برادریوں کے ساتھ شیئر کریں کہ وہ ای-کامرس، ای-فنانس اور ادائیگیوں، اسمارٹ لاجسٹکس، ضخیم ڈیٹا، سیاحت میں کس طرح نئی بصریت کو نافذ کرنے کا منصوبہ بنائیں گے اور ان کے کاروباری خیالات میں بہتری لائیں گے۔

ملائیشیا سے شریک سو یین یی، جو سوشل کامرس پلیٹ فارم اوانا کی چیف مارکیٹنگ آفیسر اور شریک بانی ہیں، نے کہا کہ وہ اپنے ساتھی اینٹری پرینیورز کے ساتھ وہ سب کچھ شیئر کرنے کے لیے بے تاب ہیں جو انہوں نے سیکھا اور ای-کامرس کے فوائد اور ملائیشیا میں اس سے پیدا ہونے والے نئے مواقع سے مستفید ہونے کے لیے بھی۔ “جب میں ملائیشیا واپس جاؤں گی تو میری توجہ شیئرنگ پر ہوگی ان لوگوں کے ساتھ جو کاروبار میں مصروف ہیں جیسا کہ ٹیکنالوجی کا فائدہ کیسے اٹھایا جائے اور اپنے کاروباری نمونہ کو مزید آگے بڑھانے کے لیے اسے کیسے استعمال کیا جائے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ پروگرام نے ایشیا بھر میں ہم-خیال اینٹری پیونرز کے لیے اپنے خیالات شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری نیٹ ورکنگ اور ترقی کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے راستہ فراہم کیا ہے۔

فلپائن میں لباس و انداز کی سبسکرپشن باکس سروس اسٹائل جینی کی ابیگیل جوئس مینڈوزا، جنہوں نے پروگرام میں شرکت کی، نے کہا کہ “اب جبکہ ہم پروگرام سے فارغ ہو رہے ہیں، ہم علی بابا گروپ اور یو این سی ٹی اے ڈی سے نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا بھر کے لیے تبدیلی کا سفیر بننے کا عہد کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد اب صرف اپنے صارفین کے مسائل حل کرنا نہیں ہے بلکہ اپنے متعلقہ شعبے میں ہمارے جدید پلیٹ فارمز کے ساتھ نئی اقتصادیات کا چیمپیئن بننا ہے۔”

37 ایشیائی ممالک کے امیدواران، جوکمبوڈیا، انڈونیشیا، پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور ویتنام سے تعلق رکھتے ہیں، کے گریجویشن کرنے کا مطلب ہے کہ وہ باضابطہ طور پر عالمی ای فاؤنڈرز فیلوشپ نیٹ ورک کے فیلوز بن کر، 2017ء میں گریجویٹ ہونے والے 24 افریقی کاروباری منتظمین کے اولین دستے کے اراکین کے ساتھی بن گئے ہیں۔

یو این سی ٹی اے ڈی اور علی بابا کے عزم کا حصہ ہونے کے ناطے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ تمام فیلوز حاصل کردہ تعلیم کو اپنی برادریوں میں مؤثر انداز سے نافذ کر رہے ہیں، دونوں ادارے ہر تین ماہ میں علاقائی اسٹیک ہولڈرز کے ذریعے فیلوز کے ساتھ رابطے میں رہیں گے اور دنیا بھر میں بھرپور اور پائیدار ترقی کے لیے ڈیجیٹل ایکوسسٹمز کی تیاری میں تعاون کریں گے۔

ای فاؤنڈرز فیلوشپ کے بارے میں مزید معلومات کے لیے https://agi.alibaba.com/efounders-fellowship اور http://unctad.org/en/pages/newsdetails.aspx?OriginalVersionID=1615 ملاحظہ فرمائیں۔

یو این سی ٹی اے ڈی کے بارے میں

ای فاؤنڈرز منصوبہ جات اسمارٹ شراکت داریوں کا حصہ ہیں جو سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ گولز کی رسائی میں ممالک کی مدد کرنے کے لیے یو این سی ٹی اے ڈی تخلیق کر رہا ہے۔

علی بابا گروپ

علی بابا گروپ کا مقصد ہر جگہ کاروبار آسان بنانا ہے۔ ادارے کا عزم تجارت کا جدید بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔ اس کا خواب ہے کہ صارفین علی بابا ہی پر ملاقات، کام اور قیام کریں اور یہ ایک ایسا ادارہ ہوگا جو کم از کم 102 برسوں تک قائم رہے گا۔

ذرائع ابلاغ کے لیے روابط
یو این سی ٹی اے ڈی
11 43 502 79 41+/ 5828 917 22 41+
unctadpress@unctad.org

کیٹی لی
علی بابا گروپ
0979 9728 852+
k.lee@alibaba-inc.com

فوٹو – https://photos.prnasia.com/prnh/20180405/2097528-1-a
فوٹو – https://photos.prnasia.com/prnh/20180405/2097528-1-b
فوٹو – https://photos.prnasia.com/prnh/20180405/2097528-1-c
فوٹو – https://photos.prnasia.com/prnh/20180405/2097528-1-d

Previous
Next