Skip to Content

کینیڈا کے وفد کا اقلیتوں کے حالات جاننے کے لیے بنگلہ دیش کا دورہ

Be First!
by December 26, 2013 General, Urdu News

ٹورنٹو، 26 دسمبر 2013ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان– ون فری ورلڈ انٹرنیشنل (‘او ایف ڈبلیو آئی’) کے صدر اور بانی ماجد الشافعی کی زیر قیادت ایک کینیڈین وفد نے 16 سے 21 دسمبر 2013ء تک بنگلہ دیش کا دورہ کیا۔ وفد میں دو قابل احترام کینیڈین اراکین پارلیمنٹ  شامل تھے: جناب بریڈ بٹ، رکن پارلیمان (مسیسواگا – اسٹریٹس ولے)، شریک چیئر کینیڈا-بنگلہ دیش پارلیمنٹری فرینڈشپ گروپ؛ جناب جے آسپن، رکن پارلیمان (نپیسنگ-تمیسکامنگ)۔ دونوں اراکین نے مبصرین کی حیثیت سے حصہ لیا۔

او ایف ڈبلیو آئی کی زیر قیادت وفد نے حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے نمائندگان، اور ساتھ ساتھ شہری انجمنوں اور مذہبی اقلیتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وفد نے بنگلہ دیش میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے اپنی مدد فراہم کرنے کا اعادہ کیا اور بنگلہ دیشی رہنماؤں اور شہری انجمنوں کے خدشات اور تناظر پر غور کیا۔ وفود نے ان اہم امور پر گفتگو کے لیے محترمہ وزیراعظم شیخ حسینہ سے بھی ملاقات کی۔

او ایف ڈبلیو آئی نے کسی بھی قسم کی مذہبی شدت پسندی کے خلاف بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے ملک کا دورہ کیا۔ او ایف ڈبلیو آئی کو بنگلہ دیش میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف جاری اور بڑھتے ہوئے حملوں پر سخت تشویش ہے۔ او ایف ڈبلیو آئی سمجھتا ہے کہ مذہب اور ریاست کے درمیان واضح علیحدگی ہی مذہبی اقلیتوں سمیت بنگلہ دیش کے تمام باشندوں کے حقوق کو یقینی بناسکتی ہے۔

بنگلہ دیش تاریخ کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ بنگلہ دیش کا طرز حکومت اگرچہ کہ آئینی و عدالتی ادارے بھی لادینیت، برابری اور مذہبی آزادی کی اقدار کی تصدیق کرتے ہیں۔ لیکن آج بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور نتیجے میں مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے حملوں نے بنگلہ دیش میں بامعنی اور آفاقی انسانی حقوق کی سمت پیشرفت کو  سخت نقصان پہنچایا ہے۔ آزادی اور انصاف کے راستے کے انتخاب کے لیے بنگلہ دیش کے عوام کو لازماً یقینی بنانا ہوگا کہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کو صرف ایک لادین سیاسی نظام کے ذریعے محفوظ بناجائے جو ہر کسی کو اپنے مذہب پر آزادانہ طور پر عمل پیرا ہونے کا حق دے۔ انہیں مذہبی انتہا پسند جماعتوں کور سیاسی عمل پر اثرانداز ہونے اور مذہب کا محدود نظریہ لاگو کرنے سے روکنا ہوگا جو سیاسی و شہری حقوق کو کسی فرد کی مذہبی شناخت سے مشروط کرتا ہے۔ شدت پسندی کا خوف صرف بنگلہ دیش کی اقلیتوں کے لیے ہی نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی بنگلہ دیشی عوام کے لیے ایک خطرہ ہے۔

آفاقی انسانی حقوق کی جانب راستہ آسان نہیں ہے۔ موجودہ سیاسی جدوجہد بنگلہ دیش کی مجموعی قومی شناخت کا قلب ہے۔ اگر انسانی حقوق کو فوقیت دینی ہے تو بنگلہ دیشی عوام کو اپنی مذہبی شناخت کو جمہوریت اور سیاست سے الگ کرنے کا یقین کامل حاصل کرنا ہوگا اور یقینی بنانا ہوگا کہ مکمل جمہوری شراکت داری اور قانونی حفاظت کے تحت ہر کسی کو حقوق حاصل ہوں۔

او ایف ڈبلیو آئی آزادی اور انسانی حقوق کی کوششوں اور شدت پسندی اور عدم برداشت کے خلاف جدوجہد میں بنگلہ دیش کے عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔

رابطہ برائے ذرائع ابلاغ

برائن مایس

ون فری ورلڈ انٹرنیشنل

ٹیلی فون: +1-416-436-6528

ای میل: info@onefreeworldinternational.org

 ذریعہ: ون فری ورلڈ انٹرنیشنل

Previous
Next

Leave a Reply